گلشن اقبال میں شاپنگ بیگ سے انسانی دھڑ برآمد
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) گلشن اقبال ہاکی اسٹیڈیم کے قریب شاپنگ بیگ سے انسانی دھڑ ملنے پر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال تھانے کے علاقے گلشن اقبال بلاک 5 پوسٹ آفس ہاکی اسٹیڈیم کے قریب شاپنگ بیگ سے انسانی دھڑ ملنے پر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو طلب کرلیا۔بعدازاں، ملنے والے انسانی دھڑ کو قانونی کارروائی کے لیے ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ایس ایچ او محمد نعیم راجپوت کا کہنا تھا کہ انسانی دھڑ کوئی نامعلوم ملزم یا ملزمان پھینک کر فرار ہوئے ہیں۔ پولیس نے اس حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انسانی دھڑ گلشن اقبال
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔