پاکستان معاشی استحکام کی راہ پر، وزیر خزانہ کی جرمن کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جرمن کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔
جرمن سفیراِنا لیپل کی قیادت میں سرمایہ کاروں اور تاجروں کے وفد نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی، جس میں وزیر خزانہ نے پاکستان کے معاشی استحکام اور اصلاحاتی پالیسی پر روشنی ڈالی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب مضبوط بنیادوں پر استحکام کی جانب گامزن ہے۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ڈھائی ماہ کی درآمدات کے برابر ہو چکے ہیں اور مالی سال کے اختتام تک یہ تین ماہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اسی طرح افراطِ زر کی شرح 5 سے 7 ات فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی ہے جب کہ پالیسی ریٹ میں کمی سے کاروباری لاگت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ تینوں عالمی ریٹنگ ایجنسیوں فچ، ایس اینڈ پی اور موڈیز نے پاکستان کا ریٹنگ آؤٹ لک بہتر کیا ہے۔ آئی ایم ایف کا حالیہ اسٹاف لیول ایگریمنٹ بھی پاکستان کی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت ٹیکس، توانائی، نجکاری اور پبلک فنانس میں گہرے اصلاحاتی اقدامات پر کاربند ہے۔ مالی سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10.
وفد کو تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ 34 سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے سپرد کردیے ہیں، جہاں عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کے لیے 4 بڑی غیر ملکی کمپنیاں مستعد ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پبلک فنانس میں اصلاحات اور پنشن کے ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل کی گئی ہے۔ پاکستان جلد ہی چینی منڈی میں اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کرے گا۔ یوروبانڈ مارکیٹ میں دوبارہ واپسی کے منصوبے پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ غیر ملکی کمپنیوں کے منافع اور ڈیویڈنڈ کی منتقلی کے مسائل خوش اسلوبی سے حل ہو رہے ہیں۔
آخر میں وزیرِ خزانہ نے جرمن سرمایہ کاروں کو ٹیکنالوجی، توانائی اور صنعت کے شعبوں میں مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔