بد انتظامی ،کرپشن و مفادات کی سیاست نے کراچی کو تباہ کردیا،منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی عوامی خدمت اور اجتماعی جدوجہد کا دوسرا نام ہے، ہم انفرادی کوششوں سے بڑھ کر انصاف کے نظام اور صالح اجتماعی نظام کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ گلزارِ ہجری سمیت پورا شہر مسائل کا گڑھ بن چکا ہے، پانی، بجلی، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ سمیت شہریوں کے مسائل حل کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے، مگر افسوس کہ اقتدار میں رہنے والے حکمرانوں نے اختیارات اور وسائل کے باوجود کراچی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ جماعت اسلامی ان مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور عوامی قوت کے ذریعے شہر کو اس کے جائز حقوق دلانے کے لیے میدانِ عمل میں موجود ہے۔کراچی پورے پاکستان کی معیشت کا مرکز ہے، یہ شہر وفاق کو 67فیصد ریونیو دیتا ہے اور سندھ
حکومت کو بھی 95 فیصد آمدنی فراہم کرتا ہے، مگر بدقسمتی سے بدانتظامی، کرپشن اور مفادات کی سیاست کے باعث کراچی کو مسلسل اس کے حقوق سے محروم رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ سابق وفاقی سیکریٹری یونس ڈاگا کے مطابق گزشتہ 15 برسوں میں کراچی کو 3360 ارب روپے کے فنڈز سے محروم رکھا گیا۔ اگر صرف اس سال کراچی کو اس کے واجب الادا 880 ارب روپے دے دیے جائیں تو نہ صرف کے فور منصوبہ مکمل ہوسکتا ہے بلکہ گرین، ریڈ اور یلو لائن جیسے تمام ٹرانسپورٹ منصوبے بھی پایہ تکمیل تک پہنچ سکتے ہیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی کو اس کا جائز حصہ دیا جائے اور وسائل عوام کی فلاح پر خرچ کیے جائیں۔ جماعت اسلامی کے تحت 21، 22 اور 23 نومبر کو مینار پاکستان، لاہور میں کل پاکستان اجتماعِ عام منعقد کیا جارہا ہے جس کا سلوگن ’’بدلو نظام کو‘‘ظلم کے نظام کو بدلنے کا عزم!ہے ،یہ اجتماع پاکستان کی دگرگوں صورتحال میں امید کی ایک نئی کرن ثابت ہوگا۔منعم ظفر خان نے تمام کارکنان اور ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ آج ہی سے اس اجتماع میں بھرپور شرکت کی تیاری کریں، اپنے نام درج کرائیں اور اپنے قافلے ترتیب دیں۔ یہ اجتماع تربیت، تزکیہ، عزمِ نو اور اجتماعی قوت کے اظہار کا عظیم موقع ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع شرقی، علاقہ گلزارِ ہجری کے تحت منعقدہ‘‘حقوقِ گلزارِ ہجری و ممبر کنونشن’’سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن سے امیرجماعت اسلامی ضلع شرقی نعیم اختر،ناظم علاقہ مظہر صدیقی نے بھی خطاب کیا ۔ منعم ظفر خان نے کنونشن کے انعقاد پر منتظمین اور ناظم علاقہ مظہرصدیقی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوبصورت اجتماع بارش کے پہلے قطرے کی مانند ہے، ان شاء للہ یہی اجتماع آنے والے دنوں میں علاقے میں بہتری، بیداری اور اجتماعی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے شہری مسائل کے حل کے لیے عوامی کمیٹیوں کی تشکیل دی ہیں تاکہ ہر محلے اور ہر یونین کونسل میں عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے منظم ہو کر عملی کردار ادا کریں۔ انفرادی کوششیں محدود ہوتی ہیں، لیکن اجتماعی قوت کے ساتھ ہم بڑے سے بڑا چیلنج عبور کر سکتے ہیں۔جماعت اسلامی کے نمائندے، خواہ ان کے پاس اختیارات ہوں یا نہ ہوں، انہوں نے ہمیشہ خدمت کا راستہ اپنایا ہے۔ جمشید بھائی اوران کی ٹیم نے گزشتہ 27، 28 مہینوں میں بغیر وسائل کے مثالی کارکردگی دکھائی، یہی وہ ٹیم ورک اور دیانت داری ہے جس کی بنیاد پر جماعت اسلامی عوام کے دلوں میں جگہ بناتی ہے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد صرف بلدیاتی یا شہری سطح کی خدمت تک محدود نہیں، ہمارا اصل مقصد وہی ہے جس کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا تھا ،اللہ کے دین کو غالب کرنا اور انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں لانا۔ یہی وہ نظریہ ہے جس پر برصغیر کے مسلمانوں نے متحد ہو کر پاکستان حاصل کیا۔ آج ضرورت ہے کہ اسی نظریے کی تجدید کی جائے تاکہ ظلم کا نظام ختم اور عدل کا نظام قائم ہو۔کارکنان نیکی کے فروغ اور ظلم کے خاتمے کے لیے منظم جدوجہد کا حصہ بنیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی کو انہوں نے کہا کہ کے لیے نے کہا
پڑھیں:
اسپیکر سردار ایاز صادق کی اصلاحاتی پالیسیوں سے قومی اسمبلی کے اخراجات میں نمایاں کمی
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی جانب سے متعارف کرائی گئی کفایت شعاری اور انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں ریکارڈ مالی بچت سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران نہ صرف اربوں روپے کی بچت ہوئی بلکہ ادارے کو جدید، ڈیجیٹل اور مؤثر نظام کی طرف بھی گامزن کیا گیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں کفایت شعاری، مالی نظم و ضبط اور جدید انتظامی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، جن کے باعث ادارے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔
پارلیمانی نظام کو پیپر لیس پارلیمنٹ کے وژن کی جانب تیزی سے لے جایا جا رہا ہے، جبکہ پارلیمانی امور کی ڈیجیٹلائزیشن سے اخراجات میں نمایاں کمی اور انتظامی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے مزین ادارہ بنانے کی سمت بھی پیش رفت جاری ہے۔ انتظامی ڈھانچے کی بہتری کے ذریعے قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اصلاحاتی اقدامات کے تحت اسامیوں کی تعداد 1725 سے کم کر کے 1344 کر دی گئی ہے، جبکہ مالی سال 2026-27 کے دوران مزید 80 اسامیوں کے خاتمے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
بیان کے مطابق ملازمین اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں کے بجٹ میں اصلاحات کے ذریعے 2 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ اس پورے اصلاحاتی عمل کے دوران کسی بھی ملازم کو ملازمت سے فارغ نہیں کیا گیا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ بہتر مالی نگرانی اور کفایت شعاری کی پالیسی کے باعث مجموعی طور پر اربوں روپے کی بچت ممکن ہوئی ہے۔ کاغذ اور ریکارڈ مینجمنٹ کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
جدید انتظامی نظام کے نفاذ سے فیصلہ سازی اور دفتری امور میں بہتری آئی ہے، جبکہ سرکاری ٹرانسپورٹ اور سفری اخراجات کے مؤثر انتظام کے ذریعے بھی نمایاں بچت حاصل کی گئی ہے۔
انتظامی اصلاحات کے ذریعے مزید 2.5 ارب روپے کی بچت ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ قومی وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال قومی اسمبلی کی اولین ترجیح ہے اور پارلیمنٹ مالی نظم و ضبط اور اچھی حکمرانی کی عملی مثال بن رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اصلاحاتی عمل قومی اسمبلی کو ایک جدید، مؤثر اور عوام دوست ادارہ بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق