ملک میں مانیٹرنگ کا کوئی شفاف نظام نہیں،جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251020-11-17
لاہور ( نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے سپریم کورٹ کی جانب سے رائٹ بنک آف فال ڈرین منصوبہ میں ہونے والی کرپشن کیس کی دوران سماعت ریمارکس کہ’’وفاقی حکومت رقم دے کر سوئی ہوئی ہے کیا وفاقی حکومت کا کوئی مانیٹر نگ کا کوئی نظام نہیں‘‘ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی بے بسی اور نا اہلی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ملک میں کرپٹ مافیا کا راج ہے اور انسداد کرپشن کے تمام ادارے خواب خرگوش میں مصروف ہیں۔ہر ادارہ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے، ہر سال آنے والی آڈیٹر جنرل کی رپورٹس کا مشاہدہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کرپشن تیزی کے ساتھ معاشرتی خون میں سرایت کر گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پرسپشن انڈیکس کے مطابق پاکستان کا شمار کرپشن کے حوالے سے 180 ممالک میں 135 ویں نمبرپر آتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کرپٹ افراد کی سر پرستی سیاسی اشرافیہ اور بیوروکریسی کر رہی ہے۔ نیب کے اہلکار پاکستان میں روزانہ 7 ارب روپے کی کرپشن کا اعتراف کر چکے ہیں مگر اس حوالے سے حکومتی عزم نہ ہونے کی وجہ سے ملکی قوانین پر عملدرآمد نہیں ہو پا رہا ہے۔جب تک کرپٹ حکمران مسلط ہیں اس وقت تک کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کر پشن کے حوالے سے زیرو ٹار لینس کا وا ویلا تو بہت کرتی ہے مگر اصل حقیقت سب کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے۔کرپشن کے حوالے سے حکومتی ذمہ داران کی چشم پوشی کا یہ صرف ایک معاملہ نہیں ہر حکومتی ادارے میں کرپشن کے نت نئے انکشافات معمول بن چکا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کرپشن کے سدباب کے لئے قوانین مزید سخت کرنے کے ساتھ احتساب کے اداروں کے سیاسی استعمال سے گریز کرے تا کہ قومی ادارے اپنے کام پر توجہ دیں اور کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ممکن ہو سکے۔علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا کہ جماعت اسلامی پنجاب کے زیر اہتمام’’کسان بچاؤ،پاکستان بچاؤ روڑ کارواں‘‘جو 26تا 28 اکتوبر کو ہوگا اس حوالے سے تیاریاں مکمل کر لی گئیں ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کرپشن کے حوالے سے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔