دوحہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے سیزفائر مذاکرات کے بعد سڑکوں پر عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی شہریوں نے کہا کہ وہ افغانی فریق پر اعتماد کرنے سے قاصر ہیں اور ان کا موقف سخت اور واضح ہے۔
شہریوں نے بتایا کہ ان کے نزدیک گزشتہ عرصے میں افغانستان کی بعض کارروائیوں نے پاکستانی خدشات کو جنم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پاک فوج نے بعض ایسے واقعات کے خلاف کارروائی کی تو افغان فریق مذاکرات کے پیچھے چھپ گیا — اس لیے عوام کا اعتماد ٹوٹا ہے۔
بعض بیان دینے والوں نے کہا کہ اگر سرحد پار سے دوبارہ ایسی کارروائیاں ہوئیں توعوام اور مسلح افواج مناسب اور سخت جواب دیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب کوئی بھی قوت، چاہے براہِ راست یا بالواسطہ، اگر پاکستان کے خلاف کارروائی کے لیے افغان سرزمین استعمال کرے گی تو اسے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
ایک شہری نے جذباتی انداز میں کہا،ہم نے افغانیوں کے ساتھ ہمیشہ بھائی چارے جیسا سلوک کیا، مگر اگر جنگ ٹھونسا گیا تو ہماری فوج اپنا فرض پوری طاقت سے انجام دے گی۔
کئی لوگوں نے یہ تاثر بھی ظاہر کیا کہ پاکستان اور اس کی قوت کے مظاہرے کے بعد افغان فریق مذاکرات کی طرف راغب ہوا — اس لئے کچھ شہری اس مذاکراتی عمل کو چہرہ بچانے کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ عوام کی پریشانیاں بنیادی طور پر سکیورٹی خدشات، غیر یقینی مستقبل اور سرحدی واقعات کے متعلق ہیں۔ تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ عوامی ردعمل میں غصہ، تحفظ کا احساس اور مستقبل کے بارے میں بےچینی ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے — اس لیے امن مذاکرات کی شقوں اور ان پر عملدرآمد کی شفافیت عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔

(جاری ہے)

منگل کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔

انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی