بھارتی ایما پر متحرک اور بھارتی پراکسی وار لڑنے والے افغان طالبان اپنے ملک کے غریب عوام کے لیے سخت مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ گزشتہ دنوں افغان قائم مقام وزیرخارجہ امیر خان متقی نے بھارت میں یہ دعویٰ کیاکہ خطے کے باقی ممالک افغانستان کے ساتھ خوش جبکہ صرف پاکستان ہی کو مسائل ہیں۔ جبکہ حقیقت افغان وزیر خارجہ کے اس بیان سے بالکل مختلف ہے جس کا ہم ذیل میں جائزہ لیں گے۔

پاکستان کے ساتھ حالات کی کشیدگی کے بعد افغانستان کی تجارت جس کا 41 سے 43 فیصد انحصار پاکستان پر ہے وہ رک گئی ہے جس سے افغانستان کو سالانہ 2 ارب ڈالر کا نقصان پہنچتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان سے اٹھنے والی دہشتگردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: پاک فوج

لیکن سوال یہ ہے کہ آیا خطے کے دیگر ممالک جیسا کہ وسطی ایشیائی ریاستیں خصوصی طور پر ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان افغانستان میں جاری بدامنی سے کس طرح متاثر ہو رہی ہیں اور اِس کے علاوہ ایران اور چین کس طرح سے اپنا ردعمل دے رہے ہیں۔

اس وقت قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پاکستانی اور افغان وفود بات چیت کے لیے موجود ہیں جبکہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ افغانستان کو پاکستان پر حملے کرنے والی اپنی مسلح پراکسیز کو لگام ڈالنی چاہیے۔

دہشتگردوں کو ملک میں پناہ دینے اور انہیں پڑوسی ممالک کے خلاف متحرک کرنے سے افغانستان کے اپنے اندرونی مسائل بڑھ سکتے ہیں اور مستقبل کے لیے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

علاقائی تنہائی اور تنازعات

اگر پانی اور دہشتگردی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ایران اور وسطی ایشیا کے ساتھ جھڑپیں بڑھ سکتی ہیں، جیسے ایران کے ساتھ 2023 کی طرح، پاکستان کے ساتھ تناؤ (ٹی ٹی پی حملے) سے فضائی حملے اور تجارتی پابندیاں ممکن، جو افغانستان کی معیشت (جو 2021 سے 21% سکڑ چکی) کو مزید تباہ کر سکتی ہیں۔

معاشی اور انسانی بحران

بین الاقوامی پابندیاں اور دہشتگردی کے خلاف عدم تعاون سے جی ڈی پی مزید گر سکتا ہے، غربت بڑھے گی، اور امداد رک جائے گی۔ افغانستان کو بھارت کے ساتھ تعلقات سے کچھ فائدہ جیسا کہ 3 ارب ڈالر کی سابقہ سرمایہ کاری ملنا ممکن ہے، لیکن اگر علاقائی طاقتیں جیسا کہ چین اور پاکستان مخالف ہوتے ہیں تو افغانستان کے اندر پراکسی وارز شروع ہو سکتی ہیں۔

افغانستان کا داخلی عدم استحکام

دہشتگرد گروپس کی پناہ سے افغانستان میں داخلی حملے بڑھ سکتے ہیں، جو طالبان کی حکمرانی کو کمزور کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے پانی کے بحران شدت اختیار کر سکتے ہیں، جو جنگوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر افغانستان دہشتگردی کے معاملے پر اگر تعاون نہیں بڑھاتا تو افغانستان ایک ناکام ریاست بن سکتا ہے، جس سے خطے میں دہشتگردی اور مہاجرین کا بحران پیدا ہوگا۔

ایران

ایران افغانستان کا ایک انتہائی اہم پڑوسی ملک ہے اور پاکستان کی طرح افغانیوں کے ایران کے ساتھ مذہبی، لسانی اور ثقافتی رشتے ہیں۔ افغان سرزمین سے دہشتگردی خاص طور پر اسلامی ریاست خراسان (آئی ایس کے پی) جیسی تنظیموں کی طرف سے، ایران کو شدید طور پر متاثر کر رہی ہے۔ یہ گروپ افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کے باوجود فعال ہے اور ایران میں شیعہ آبادی اور حکومتی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔

ایران پر اثرات حملوں کی شدت اور نوعیت

آئی ایس کے پی نے افغانستان سے منصوبہ بندی کرکے ایران میں متعدد حملے کیے ہیں۔ مثال کے طور پر جنوری 2024 میں کرمان شہر میں قاسم سلیمانی کی یادگاری تقریب پر 2 خودکش بم دھماکے کیے گئے، جن میں 94 سے زیادہ افراد ہلاک اور 280 زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری آئی ایس کے پی نے قبول کی، اور حملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے تھا۔

اکتوبر 2022 میں شیراز کی شاہ چراغ مسجد پر حملہ ہوا، جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے۔ حملہ آور ایک تاجک شہری تھا جو افغانستان سے آیا تھا۔ یہ حملہ شیعہ مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی کا حصہ تھا۔

گزشتہ دو سالوں کے دوران ایران میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا، جیسے مساجد، پولیس اسٹیشنز اور سرکاری عمارتوں پر حملے۔ یہ حملے ایران کی داخلی سیکیورٹی کو کمزور کررہے ہیں، خاص طور پر سیستان بلوچستان اور کرمان جیسے علاقوں میں، جہاں شیعہ سنی تناؤ بڑھ رہا ہے۔

عالمی رپورٹس کے مطابق افغانستان کے ننگرہار اور کنڑ صوبے میں آئی ایس کے پی کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں جو ان حملوں کی منصوبہ بندی کا مرکز ہیں۔

معاشی اور سماجی اثرات: یہ حملے ایران کی معیشت کو متاثر کر رہے ہیں، جیسے سیاحتی اور مذہبی مقامات پر لوگوں کی کمی، اور داخلی تناؤ سے شیعہ اور افغان مہاجرین کے درمیان جھڑپیں۔ قریباً 30 لاکھ افغان مہاجرین ایران میں رہتے ہیں، اور دہشتگردی کے الزامات سے ان پر تشدد بڑھ رہا ہے، جو انسانی بحران کا سبب بن رہا ہے۔ مجموعی طور پر یہ دہشتگردی ایران کی علاقائی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے، کیونکہ یہ امریکا اور اسرائیل کو مورد الزام ٹھہرانے کا موقع دیتی ہے۔

ایران کے اقدامات

ایران نے دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کثیر جہتی حکمت عملی اپنائی ہے، جو سفارتی، فوجی اور داخلی سطح پر ہے۔ تاہم طالبان کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے یہ اقدامات پیچیدہ ہیں۔

ایران طالبان کو تسلیم نہیں کرتا لیکن عملی طور پر تعاون کر رہا ہے۔ ایران نے طالبان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ آئی ایس کے پی کو کچلیں۔ اپریل 2024 میں ایران نے طالبان کو اجازت دی کہ وہ ایرانی فورسز کو افغان سرزمین پر آئی ایس کے پی کے کیمپوں پر حملے کرنے دیں۔ یہ ’عملی تعاون‘ کی مثال ہے، جہاں ایران طالبان کو ہتھیار اور انٹیلی جنس فراہم کررہا ہے۔

پاکستان کی طرح ایران بھی افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر ملک بدری، جو 2025-2023 میں شدت اختیار کر گئی۔ بعض اوقات تشدد کے ساتھ، جیسے پاسپورٹ پھاڑنا یا گرفتاریاں، کیونکہ ایران انہیں دہشتگردی کا ممکنہ ذریعہ سمجھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران نے دہشتگردی کے خلاف قوانین کو سخت کیا، جیسے 2023 کا ترمیمی قانون جو دہشتگردوں کو وسائل سے محروم کرنے پر مرکوز ہے۔

چین

چین اور افغانستان کے درمیان شمال مشرقی حصے میں واقع واخان کوریڈور کے ذریعے ایک مختصر مگر نہایت اہم سرحد موجود ہے جو چین کے صوبے سنکیانگ سے ملتی ہے۔ چین کے حکام اس امر پر گہری تشویش ظاہر کر چکے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشتگرد اور علیحدگی پسند گروہ خصوصاً ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ چین کے صوبے سنکیانگ کے اندر سرگرم ہو سکتے ہیں جس سے نہ صرف دہشتگردی بلکہ سرحدی جرائم، اسلحہ و منشیات کی اسمگلنگ اور انتہا پسندی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

یہ تمام عوامل چین کی داخلی سلامتی اور اس کی سنکیانگ پالیسی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ علاوہ ازیں افغانستان میں بدامنی چین کے اقتصادی اور علاقائی ترقیاتی منصوبوں خاص طور پر بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے لیے بھی چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ افغانستان اس منصوبے میں ایک ممکنہ راہداری اور شراکت دار ملک ہے۔

چین کے اقدامات

چین نے اس خطرے کے پیش نظر متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں افغان حکومت کے ساتھ مشترکہ بیانات، سہ فریقی چین، افغانستان، پاکستان مکالماتی فورم کا قیام، اور دہشتگردی و علیحدگی پسندی کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک نے سرحدی کنٹرول، معلوماتی تبادلے، منشیات و انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور دہشتگرد عناصر کی حوالگی کے لیے قانونی تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ چین افغانستان کے ساتھ اقتصادی شراکت بڑھانے، انفراسٹرکچر اور زرعی تعاون کے منصوبے شروع کرنے اور امن و استحکام کے بعد افغانستان کو علاقائی تجارت سے جوڑنے کے لیے بھی پرعزم ہے۔

چین نے پاکستان اور افغانستان کے ساتھ سیکیورٹی روابط کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا ہے تاکہ افغانستان کی سرزمین سے چین کے خلاف سرگرمیوں کا خطرہ کم سے کم کیا جا سکے۔

ازبکستان

ازبکستان افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی اور بدامنی سے براہِ راست متاثر ہو رہا ہے، کیونکہ اس کی شمالی افغان سرحد خصوصاً امرُو دریا کے کنارے واقع علاقے، دہشت گردوں، غیر قانونی دراندازی، ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ کے لیے حساس گزرگاہ سمجھے جاتے ہیں۔

ازبکستان حکومت کے مطابق افغانستان وسطی ایشیا کا حصہ ہے، لہٰذا وہاں کا عدم استحکام پورے خطے بشمول ازبکستان کی سلامتی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ علاقائی دہشت گرد تنظیمیں جیسے ’اسلامک موومنٹ آف ازبکستان‘ افغانستان میں سرگرم ہیں، جس کے باعث تاشقند اپنی سرحدی نگرانی اور سلامتی کے معاملات میں محتاط اور متحرک ہے۔

ان خطرات کے مقابلے میں ازبکستان نے افغانستان کے ساتھ بارڈر سیکیورٹی، داخلہ و خارجہ چیک پوائنٹس اور ثقافتی و معاشی تعاون کو فروغ دیا ہے۔

اس کے علاوہ ازبکستان شنگھائی تعاون تنظیم جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے سے دہشتگردی کے خلاف تعاون بڑھا رہا ہے۔

تاجکستان

تاجکستان افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی اور بدامنی سے گہرا متاثر ہو رہا ہے کیونکہ اس کی قریباً 1300 کلومیٹر طویل سرحد افغانستان سے ملتی ہے، جو اسے دہشتگردی، انتہا پسندی، غیر قانونی دراندازی، منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ جیسے خطرات کے سامنے لاتی ہے۔

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد انتہا پسند گروہ بالخصوص داعش یا آئی ایس کے پی نے شمالی افغانستان میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں جس سے تاجکسان کے لیے عسکریت پسندی اور سرحدی مداخلت کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

تاجک حکام کے مطابق صرف 2025 کی پہلی ششماہی میں سرحدی علاقوں میں منشیات اسمگلنگ کے دوران 10 سے زیادہ مسلح جھڑپیں ہوئیں، جو خطرے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ مجموعی طور پر افغانستان میں شدت پسندی کے پھیلاؤ اور منشیات کی تجارت میں اضافے نے تاجکستان کی داخلی سلامتی، سرحدی نظم و نسق اور سماجی استحکام کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔

ترکمانستان

ترکمانستان جو افغانستان کے ساتھ قریباً 800 کلومیٹر طویل سرحد رکھتا ہے، افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی، انتہا پسندی، منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ جیسے خطرات سے متاثر ہو رہا ہے۔ شمالی افغانستان میں سرگرم شدت پسند گروہ خصوصاً اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور داعش خراسان کے نیٹ ورکس ترکمانستان کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

افغانستان میں عدم استحکام کے باعث ترکمانستان نے اپنی سرحدوں پر نگرانی سخت کردی ہے اور دفاعی تیاریوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں بکتر بند گاڑیوں کی تعیناتی، فوجی گشت اور سرحدی فورسز کی تربیت شامل ہے۔

ساتھ ہی ترکمانستان نے افغانستان کے ساتھ سفارتی روابط کو فعال رکھا ہے اور ’امن، ترقی و سلامتی‘ کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں نے پاکستان کو دہشتگردی کا شکار بنا دیا، طارق فاطمی

اس نے بین الاقوامی اداروں اور شراکت داروں مثلاً اقوام متحدہ اور امریکا سے سرحدی سلامتی میں تعاون اور تربیتی امداد بھی حاصل کی ہے۔ اگرچہ ترکمانستان کی پالیسی غیر جانب دار ہے، لیکن افغانستان کی بدلتی صورتِ حال نے اسے دفاعی اور سیکیورٹی لحاظ سے زیادہ محتاط بنا دیا ہے تاکہ شدت پسندی اور سرحد پار دہشت گردی کے خطرات کو روکا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews افغان مہاجرین افغانستان دہشتگردی پاک افغان کشیدگی پڑوسی ممالک چین دوحہ مذاکرات وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان مہاجرین افغانستان دہشتگردی پاک افغان کشیدگی پڑوسی ممالک چین دوحہ مذاکرات وی نیوز افغانستان کے ساتھ متاثر ہو رہا ہے افغانستان میں والی دہشتگردی افغان مہاجرین اور دہشتگردی افغانستان کی افغانستان سے افغانستان کو آئی ایس کے پی کہ افغانستان دہشتگردی کے کی اسمگلنگ اور افغان ایران میں ایران نے سکتے ہیں کے خلاف چین کے کے لیے اور اس ہے اور دیا ہے

پڑھیں:

3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی

اسلام ٹائمز: یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی شام جب امام خمینیؒ کی رحلت کی خبر آہستہ آہستہ تہران کی فضا میں پھیلنے لگی تو گویا ایک قوم پر سکوتِ غم  طاری ہوگیا۔ وہ شخصیت جس کی آواز نے انقلاب کو جنم دیا تھا، اب خاموش ہو چکی تھی۔ آنکھیں اشک بار تھیں، دل سوگوار تھے اور فضائیں غم و اندوہ سے بوجھل تھیں۔ سید حسن عارفی نے  3 جون 1989ء کے حوالے سے اپنی یادداشت طبیبِ دلھا میں لکھا ہے کہ 3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی نصف شب سے حضرت امام خمینیؒ کا بلڈ پریشر گرنا شروع ہوگیا اور غنودگی میں اضافہ ہونے لگا۔ صبح 5 بجے، اگرچہ جسم کا درجۂ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، لیکن امام عزیزؒ کو سردی محسوس ہو رہی تھی۔

3 جون 1989ء کی صبح 9 بج کر 14 منٹ پر ہمارے عزیز امام کو دل کی دھڑکن تیز ہونے، کمزوری، نقاہت اور شریانی بلڈ پریشر کے بتدریج کم ہونے کی علامات ظاہر ہوئیں۔ صبح 10 بجے ڈاکٹر سیم فروش نے ضروری طبی اقدامات کیے، اور گردوں کے اخراجی مسئلے کے باعث ڈاکٹر قدس اور ڈاکٹر رہبر کو بھی طلب کیا گیا۔ نس میں دی جانے والی رطوبت (سرم) اور خون کے پروٹین کی تیاری (البیومن) دیے جانے کے باوجود، اور پیشاب کے اخراج میں رکاوٹ کی وجہ سے، بلڈ پریشر مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا۔ حضرت امام قدرے غنودگی میں تھے، لیکن مکمل طور پر ہوش و حواس میں تھے۔

حضرت امام کی حالت کی سنگینی سے اہلِ خانہ، قریبی افراد اور ملکی ذمہ داران کو آگاہ کر دیا گیا۔ طبی ٹیم کے تمام ارکان کو طلب کر لیا گیا۔ امام عزیز ملاقاتوں، لوگوں کی آمد و رفت اور اپنی بگڑتی ہوئی حالت سے پوری طرح باخبر تھے اور مسلسل ذکرِ الٰہی میں مشغول تھے۔ وہ برابر سورۂ حمد اور دیگر سورتیں تلاوت کر رہے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات گزار رہے ہیں۔ حضرت امام خمینی نے دوپہر کی نماز عین شرعی وقت پر ادا کی اور دوپہر کے کھانے میں صرف مائعات (پانی اور پتلی اشیاء) استعمال کیے۔ دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر انہیں پہلی مرتبہ قے ہوئی، اور انہوں نے فوراً حکم دیا کہ ان کے تمام کپڑے بدل دیے جائیں اور بستر کی چادریں بھی تبدیل کر دی جائیں۔

شام 3 بجے دل کی دھڑکن مزید سست ہوگئی۔ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات میں بھی وہ پوری ہوشیاری اور سختی سے اپنی ظاہری صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھتے تھے۔ وہ مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتیں پڑھتے رہے اور بخوبی جانتے تھے کہ یہ آخری لمحات ہیں۔ تقریباً 3 بجے، بیماری اور شریانی بلڈ پریشر کے شدید زوال کے باعث پیدا ہونے والی کمزوری اور ناتوانی کے عالم میں انہوں نے بلند آواز سے مجھے پکارا۔ میں نے اپنا سر اور کان ان کے لرزتے ہوئے ہونٹوں کے قریب کیے اور عرض کیا: "آقا جان! فرمائیے، میں حاضر ہوں۔" انہوں نے فرمایا: "اگر وضو وقتِ نماز داخل ہونے سے پہلے کیا جائے تو نیت اس طرح ہونی چاہیئے۔"

میں نے فوراً حاج احمد آقا خمینی اور حجت الاسلام و المسلمین جناب آشتیانی کو، جو قریب ہی موجود تھے، ان کی خدمت میں بلا لیا۔ دراصل ان کی آخری درخواست مجھے بلانا تھی اور ان کی آخری گفتگو ایک شرعی اور فقہی مسئلے سے متعلق تھی۔ دوپہر 2 بج کر 59 منٹ پر ان کا دل، سامنے موجود نوارِ قلب (الیکٹرو کارڈیوگرام) کے مطابق دھڑک رہا تھا اور بلڈ پریشر مسلسل گر رہا تھا، لیکن امام عزیز مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتوں کی تلاوت میں مشغول رہے۔ اگرچہ بلڈ پریشر بہت کم ہو چکا تھا، پھر بھی ان  کے ہوش و حواس قائم تھے۔

اب اہلِ خانہ ایک ایک کر کے پروانوں کی طرح ان کے وجود کی شمع کے گرد جمع ہو رہے تھے، لیکن یہ روشن اور عالم تاب چراغ بجھنے کے قریب تھا۔ ہر لمحہ اس کی نورانی روشنی کم ہوتی جا رہی تھی اور ہمارے دلوں کا غم بڑھتا جا رہا تھا۔ اس وقت جب حضرت امام عزیز کو شدید سانس کی تنگی اور شدید دل کی دھڑکن تکلیف دے رہی تھی اور ان کا بلڈ پریشر انتہائی حد تک گر چکا تھا جس کے باعث جسم کے تمام اعضاء کو خون کی فراہمی متاثر ہوگئی تھی، اور ساتھ ہی کینسر کے خلیات پورے جسم میں پھیل چکے تھے، ہم یہ مشاہدہ کر رہے تھے کہ یہ بے مثال ہستی اس شدید بیماری کے باوجود اپنی صفائی، پاکیزگی اور ظاہری آراستگی کا خاص خیال رکھ رہی تھی۔ اگرچہ پچھلے چند دنوں سے امام عزیز شدید غنودگی کا شکار تھے، لیکن وہ نمازوں کے اوقات کی سختی سے پابندی کرتے اور انہیں وقت پر ادا کرنے کے خواہش مند رہتے تھے۔

اس دن بھی صبح 9 بجے کے بعد ان کی حالت تیزی سے بگڑنے لگی اور بلڈ پریشر مسلسل گرنا شروع ہو گیا۔ غنودگی میں اضافہ تھا، لیکن کبھی کبھار وہ آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ دوپہر 12 بجے سے پہلے کئی بار فرمایا کہ انہیں نمازِ ظہر کا وقت بتایا جائے۔ اس کے بعد وضو اور تیمم کے امتزاج کے ساتھ، شدید کم بلڈ پریشر، تیز دل کی دھڑکن (نوارِ قلب کے مطابق) اور شدید سانس کی تکلیف کے باوجود، محترم جناب حجت الاسلام والمسلمین حاج محمد علی انصاری کے تعاون سے انہوں نے اپنی آخری نمازِ ظہر و عصر ادا فرمائی۔ ان نازک لمحات میں جب امام کی ذات شدید بیماریوں کے خطرے میں تھی، انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، جو یومِ عاشورا کے وقت نماز ادا فرماتے ہیں، اس نماز کے ذریعے اپنے مشن کا پیغام عملی طور پر لاکھوں عقیدت مندوں تک پہنچایا۔

ہم انتہائی تکلیف دہ اور مشکل لمحات سے گزر رہے تھے۔ امام عزیز، جن کی کم ہوتی ہوئی بلڈ پریشر نے انہیں شدید کمزوری اور ناتوانی میں مبتلا کر دیا تھا، کبھی کبھار آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ میں نے یہ احساس دلانے کے لیے کہ آخری لمحات میں بھی طبی ٹیم، خصوصاً میں، ان کی خدمت میں موجود ہے، ان کے دائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ حضرت امام نے محسوس کیا کہ آخری وقت میں محبت، عقیدت اور والد و اولاد جیسے پاک جذبات کا تبادلہ ہو رہا ہے، اور ساتھ ہی مرید و مراد کا رشتہ بھی قائم ہے۔ اس لمحے کے بعد انہوں نے میرا ہاتھ بالکل نہ چھوڑا، اور میں بھی یہ جانتے ہوئے کہ آخری لمحات میں مریض کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے، مسلسل مانیٹر پر ان کی دل کی دھڑکن دیکھتا رہا اور ان کا ہاتھ نرمی سے تھامے رکھا۔شام 3 بج کر 46 منٹ پر دل کی دھڑکن تیز اور بے ترتیب ہو گئی، اور یہ روشنی امیدوں کے افق پر مدھم پڑنے لگی۔

بلڈ پریشر کا مسلسل گرنا، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب اور تیز ہونا، اور علاج کا مؤثر جواب نہ دینا، حضرت امام کی حالت کی شدید خرابی کو ظاہر کر رہا تھا، اور ہر لمحہ کسی بڑے حادثے کا خدشہ بڑھ رہا تھا۔ اسی لیے طبی ٹیم، سرجنز اور نرسیں جدید ترین طبی آلات کے ساتھ امام کے بستر کے قریب موجود تھیں تاکہ فوری اقدامات کیے جا سکیں۔ اچانک شام 3 بج کر 58 منٹ پر دل کے اوپر والے حصے سے نیچے والے حصے تک برقی ترسیل بند ہوگئی، جس کے نتیجے میں دل میں بے ترتیبی (فبریلیشن) پیدا ہوئی اور بلڈ پریشر صفر ہو گیا۔

شام 3 بج کر 58 منٹ پر نوارِ قلب کے مطابق دل نے حرکت بند کر دی، تاہم مکمل طبی تیاری کے ساتھ بار بار برقی جھٹکے (الیکٹروشاک)، سینے پر بیرونی پیس میکر (بجلی سے چلنے والا آلہ) لگانا، سانس کی نالی میں ٹیوب ڈال کر مصنوعی تنفس سے جوڑنا، عارضی طور پر دل کی دھڑکن اور سانس کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن امام عزیز اس وقت بے ہوشی کی حالت میں تھے۔

شام 10 بج کر 22 منٹ پر پیس میکر (بیرونی برقی محرک آلہ) کام کر رہا تھا، لیکن دل کے عضلات اس کی دی گئی تحریکوں کے باوجود سکڑ نہیں رہے تھے۔ شام 10 بج کر 23 منٹ پر حضرت امام عزیز کا دل، جو اپنی پوری زندگی میں ہر منٹ تقریباً 60 سے 70 مرتبہ، ہر گھنٹے تقریباً 3600 مرتبہ، ہر روز 86400 مرتبہ، ہر سال تقریباً 30936000 مرتبہ، اور اپنی 90 سالہ بابرکت عمر میں مجموعی طور پر تقریباً 2784240000 مرتبہ اللہ کی رضا، اسلام کی سربلندی، کلمۂ لا الٰہ الا اللہ کی بلندی، مستضعفین کی آزادی، ایرانی قوم اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی عزت و سربلندی کے لیے دھڑکا تھا، اپنی آخری دھڑکن کے ساتھ ہمیشہ کے لیے رک گیا، اور اپنے چاہنے والوں اور عاشقوں کو غم و اندوہ میں ڈبو گیا۔
’’بگذار تا بگریم چون ابر در بہاران ۔۔۔ کز سنگ نالہ خیزد وقتِ وداع یاران‘‘
اور اس آخری دھڑکن کے ساتھ، انسانیت نے علم، تقویٰ، ایمان، استقامت، تسلیم نہ ہونے والے جذبے اور ایثار کے پیکر پر ایک گہرا اور کاری صدمہ محسوس کیا۔ انہوں نے اس دنیا سے آنکھیں بند کر لیں، لیکن اسلام کی اشاعت اور اس رہنما مکتب کے ذریعے لاکھوں سوئے ہوئے دلوں کو بیدار کر دیا:
’’ای خوش آن رہبر کہ بعد از مرگ زاد ۔۔۔ چشمِ خود بست و چشمِ ما گشاد‘‘
بے شک اس کی روشن شمعِ حیات ظاہراً بجھ گئی تھی، لیکن یہ وہ چراغ تھا جو قافلۂ انسانیت کے حسینی کرداروں کے دل میں ہمیشہ روشن رہتا ہے اور روشنی بکھیرتا رہتا ہے۔ ان کی حیات ایک ایسی نورانی روشنی تھی جس نے 90 سال تک ہماری تاریک دنیا کو منور اور گلزار بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لیے، ان کے چاہنے والوں اور فرزندوں کے لیے، وہ رخصت نہیں ہوئے۔ وہ زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ وہ ہمارے راستے کا چراغ ہیں۔ خدا کی قسم، وہ ہمارے وجود کے ذرے ذرے میں، ہمارے خلیوں، حتیٰ کہ ایٹموں (پروٹونز اور نیوٹرانز) تک میں موجود ہیں، اور جب تک ہم زندہ ہیں، ان کی یاد، ان کی تعلیمات اور ان کے انسان ساز اسلامی پیغام کے تابع رہیں گے:
“ہرگز نمیرد آنکہ دلش زنده شد به عشق ۔۔۔ ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما”
سید حسن عارفی کی یادادشت کے بعد اب آیئے  4 جون 1989ء (14 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی غمگین اور سوگوار صبح پر ایک نگاہ ڈالئے۔ صبح سویرے ریڈیو سے خبرِ ارتحال نشر ہوئی تو لاکھوں دلوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ مرد، عورتیں، بوڑھے اور نوجوان سب اپنے محبوب رہبر کی آخری جھلک پانے کے لیے بے تاب تھے۔ جب جسدِ خاکی مصلیٰ تہران میں رکھا گیا تو اشکوں کا ایک سمندر امڈ آیا۔ ہر آنکھ نم تھی اور ہر زبان پر دعا و درود جاری تھا۔

6 جون 1989ء (16 خرداد 1368 ہجری شمسی) کو نمازِ جنازہ کے بعد جب تدفین کے لیے پیکرِ امام کو بہشتِ زہرا کی جانب لے جایا گیا تو جذبات کا طوفان اس قدر شدید تھا کہ لاکھوں سوگوار اپنے آنسوؤں اور عقیدت پر قابو نہ رکھ سکے۔ ہجوم بڑھتا گیا، انتظامات ٹوٹتے گئے، اور ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے ہر دیکھنے والے کو رُلا دیا۔ تابوت مجمع کے دباؤ میں آ گیا، اور تدفین کا عمل وقتی طور پر روکنا پڑا۔

یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی