ملک حکمرانوں کے تعصبانہ رویے کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتا ، جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک انتشار، افراتفری، انتقامی سیاست اور حکمرانوں کے تعصبانہ رویے کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتا،ضرور ت اس بات ہے کہ سیاسی استحکام لایا جائے، سرحدوں کو محفوظ بنانا ہو گا۔مسلم ہمسایہ ملک کے ساتھ معاملات کوحل کرنے کے لئے مذاکرات کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔افغانستان کی عبوری حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ بھارت کٹھ پتلی بننے اور مودی کی زبان بولنے کے بجائے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کا ساتھ دے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار منصورہ میں مختلف عوامی وفود سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک غربت اور جہالت میں ڈوبا ہوا ہے لیکن ہماری سول اور غیر سول افسرشاہی اپنے ٹھاٹھ باٹھ چھوڑنے تیار نہیں ہے۔ملٹی نیشنل کمپنیاں خون نچوڑ رہی ہیں۔ جو حکومت آتی ہے وہ پروٹوکول اور اپنی مراعات کے حصول میں کمی تو کرتی نہیں بلکہ الٹا ملک کو مزید قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیتی ہے۔ ہر شخص تین لاکھ 18ہزار کا مقروض ہے۔ ہمارے ملکی اور قومی مسائل کے بارے میں پالیسیاں بنانے والے اصل لوگ عوام کو درپیش مسائل سے واقفیت ہی نہیں رکھتے۔مٹھی بھر اشرافیہ سب کچھ یرغمال بنایا ہوا ہے۔ہماری اصل لڑائی موجودہ فاسد نظام سے ہے۔ ہم اس میں پیچ ورک کے قائل نہیں، ہم اسے جڑ سے اکھاڑ دینا چاہتے ہیں۔محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ پاکستان کو اغیار کی غلامی میں دینے والے فارم 47کے حکمران خود کو قوم کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے۔ آج پاکستان کی معیشت برباد ہو چکی ہے۔حکمرانوں کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے اسلام کے کے نظام کے لئے ہم متحد ہوں۔ ملکی حالات دن بدن ابتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ملک و قوم کو محب وطن اور صالح قیادت کی ضرورت ہے تاکہ درپیش مسائل کا حل ممکن ہو۔ جب تک فرسودہ نظام کے محافظ مسلط رہیں گے اس وقت تک خوشحالی کا شرمندہ تعبیر ہو سکتا اور عوام کی زندگیوں میں خوشحالی نہیں آسکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔