48 گھنٹے میں گل بہادر گروپ کے 100 سے زاید دہشت گرد ہلاک پوئے،عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251019-01-15
اسلام آباد(صباح نیوز)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے پاک افغان سرحد کے ساتھ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع کے سرحدی علاقوں میں دہشت گرد گل بہادر گروپ کے تصدیق شدہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، سیکورٹی فورسز کی جوابی
کارروائیوں میں 100 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ہفتہ کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 48گھنٹے طویل سیز فائر کے دوران افغانستان سے کام کرنے والے دہشت گردوں نے پاکستان میں متعدد دہشت گرد حملے کرنے کی کوشش کی جس کا سیکورٹی فورسز نے موثر طریقے سے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی موثر جوابی کارروائی کے دوران 100 سے زائددہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ دہشت گردگل بہادر گروپ نے شمالی وزیرستان میں گاڑی پر بھی آئی ای ڈی حملہ کیا جس میں شہریوں اور ایک سپاہی نے شہادت کو گلے لگایا اور متعدد زخمی ہوئے۔گل بہادر گروپ کے دہشت گردوں کے خلاف گزشتہ رات درست اور ہدفی کارروائی کی گئی۔ تصدیق شدہ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر ان کارروائیوں میں کم از کم 60 سے 70 دہشت گردوں اور ان کی قیادت کو ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے کی جانے والی تمام قیاس آرائیاں اور دعوے غلط ہیں اور ان کا مقصد افغانستان کے اندر سے کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں کی حمایت پیدا کرنا ہے۔پاکستان مخلصانہ طور پر اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کے اس پیچیدہ مسئلے کا حل بات چیت اور افغان حکام کی جانب سے غیر ریاستی عناصر پر موثر کنٹرول کے ذریعے ممکن ہے۔ تاہم پاکستان کو اپنی علاقائی سالمیت اور پاکستان کے عوام کی جانوں کے تحفظ کے تمام حقوق حاصل ہیں اور ہم افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گردوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بہادر گروپ
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔