Express News:
2026-07-24@05:09:56 GMT

یونیورسٹی آف نبراسکا

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

افغان فطرتاً حملے کے ایکسپرٹ ہیں‘ یہ حملہ کریں گے اور چند منٹوں میں ہر چیز تہس نہس کر دیں گے‘ آپ تاریخ دیکھ لیں‘ افغانوں نے انڈیا کے ساتھ کیا کیا‘ یہ آتے تھے‘ شہروں کو لوٹتے تھے‘ مکانوں اور کھیتوں کو آگ لگاتے تھے‘ انسانوں کو قتل کرتے تھے اور واپس چلے جاتے تھے۔ 

جنگی زبان میں اسے چھاپہ مار کارروائی کہتے ہیں‘ یہ اس کے ایکسپرٹ ہیں‘ دوسرا یہ اپنے مفاد میں اکٹھے ہو جاتے ہیں‘ان پر حملہ ہو یا انھیں کسی ملک میں مفاد نظر آئے گا تو یہ قبائلی عصبیت اور نظریاتی اختلافات بھلا کر فوراً اکٹھے ہو جائیں گے لیکن جوں ہی مفاد ختم ہو گا یہ دوبارہ ایک دوسرے سے لڑنا شروع کر دیں گے۔

ان دو خوبیوں کے علاوہ ان میں خامیاں ہی خامیاں ہیں‘ یہ ڈسپلنڈ نہیں ہیں‘ افغانستان تاریخ کے کسی بھی دور میں آزاد اور مکمل ملک نہیں رہا‘ یہ مختلف علاقوں اور قبائل میں منقسم رہا لہٰذا افغانوں کے ڈی این اے میں ڈسپلن‘ قانون کی پابندی‘ ملک سے محبت‘ رواداری اور انسانی حقوق پیدا نہیں ہوئے۔ 

ان کی نظر میں انسانی جان‘ وعدے کی پابندی‘ خواتین کا احترام اوراحسان مندی کی اہمیت نہیں‘ لڑنا‘ مرنا اور مارنا ان کی خو ہے‘ یہ آپس میں لڑتے اور مرتے رہتے ہیں اور اگر کوئی دوسرا آ جائے تو یہ غول کی شکل میں اس سے لڑ پڑتے ہیں‘ وہ تنگ آ کر واپس چلا جاتا ہے تویہ پھر ایک دوسرے کا سر اتارنا شروع کر دیتے ہیں۔

سوویت یونین کے معاملے میں بھی یہی ہوا ‘ یہ سب روس سے لڑ رہے تھے لیکن جوں ہی روسی ٹینک واپس جانے شروع ہوئے یہ آپس میں لڑ پڑے اور اس لڑائی سے انھیں افغان وار سے دس گنا نقصان ہوا۔ 

طالبان کا ظہور اسی خانہ جنگی کا نتیجہ تھا‘ طالبان آئے تو افغانستان میں امن ہو گیا اور لوگوں نے سکھ کا سانس لیا لیکن اس کے بعد طالبان نے وہ گل کھلائے کہ امریکا ان پر حملے کے لیے مجبور ہوگیا اور اس کے بعد افغانوں نے ایک بار پھر افغانوں کے ساتھ وہ کیا جسے سن کر انسانیت کانپ جاتی ہے۔

آپ خانہ جنگی کے واقعات پڑھ لیں آپ کی نیند اڑ جائے گی‘ یہ لوگ اپنے بھائیوں کو کنٹینروں میں بند کر کے صحرا میں چھوڑ دیتے تھے اور لوگ کنٹینر میں بھوک‘ پیاس اور گرمی سے مر جاتے تھے‘ لاشوں سے بھرے یہ کنٹینر برسوں صحراؤں میں کھڑے رہے۔

اب سوال یہ ہے یہ لوگ اگر اتنے ہی جاہل‘ سنگ دل‘ مطلبی اور احسان فراموش ہیں تو پھر ہم انھیں دہائیوں تک آئیڈیل کیوں سمجھتے رہے اور ہم نے اپنے میزائلوں کے نام غوری‘ غزنوی‘ بابر اور ابدالی کیوں رکھے؟ یہ داستان بھی کم دل چسپ نہیں۔

ہندوستان ماضی میں دوا کثریتوں میں تقسیم رہا‘ ہندو اور مسلمان‘ ہندو تعداد میں زیادہ تھے لیکن یہ فطرتاً بزدل ہیں‘ مسلمان بہادر اور جنگ جو ہیں اور ان کی اکثریت سنٹرل ایشیا سے آئی تھی‘ یہ افغان‘ ایرانی‘ ازبک‘ تاتاری‘ ترک اور عرب تھے اور یہ ہزاروں سال سے جنگ جو ہیں۔ 

ہندوستان پر پانچ ہزار سال سے سنٹرل ایشیا سے حملے ہوتے رہے‘ غزنویوں‘ غوریوں‘ ازبکوں اور ابدالیوں نے ماضی میں ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی لہٰذا یہ ان کے ناموں اور تذکروں سے بھی ڈرتے تھے۔

پاکستان بنا تو مسلمان آبادی سنٹرل ایشیا کی سرحد پر اکٹھی ہو گئی‘ ان کی سنٹرل ایشین ملکوں کے ساتھ جنیاتی‘ روایاتی اور مذہبی روٹس ملتی تھیں‘ افغان وار کی وجہ سے1980 میں امریکا پاکستان آ گیا اور اس نے شروع ہی میں دو حقیقتیں بھانپ لیں۔ 

ایک پنجاب پاکستان کا بڑا صوبہ ہے اور پنجابی دل سے افغانوں سے نفرت کرتے ہیں‘ اس کی بڑی وجہ افغانوں کی لوٹ مار تھی‘ افغانوں کو دہلی‘ گجرات اور بنگال دور پڑتا تھا‘ پنجاب ان کے راستے میں تھا لہٰذا یہ درہ خیبر پار کرتے ہی پنجابیوں کو لوٹنا شروع کرتے تھے اور مارتے دھاڑتے ہوئے پانی پت پہنچ جاتے تھے۔ 

یہ اگر وہاں کام یاب ہو جاتے تو دہلی کو لوٹ کر واپس چلے جاتے تھے ورنہ دوسری صورت میں پنجاب بھی ان کی لوٹ مار کے لیے کافی تھا‘ پنجاب ہر سال ان کے ہاتھوں تاراج ہوتا تھا چناں چہ پنجابی انھیں پسند نہیں کرتے تھے‘ یہ انھیں خرکار‘ اغواء کار اور لٹیرے سمجھتے ہیں۔ 

دو افغانستان تاریخ کے ہر دور میں عالمی طاقتوں کی گزرگاہ رہا‘ سکندر اعظم سے لے کر سوویت یونین تک ہر بڑی طاقت اسے روند کر یہاں سے گزری لہٰذا افغان جنیاتی طور پر بڑی اور لمبی جنگ نہیں لڑ سکتے تھے۔ 

امریکا نے یہ حقیقتیں دیکھ کر دو کام کیے‘ اس زمانے میں یونیورسٹی آف نبراسکا کا شعبہ ’’سینٹر فار افغانستان اینڈ ریجنل اسٹڈیز‘‘پورے امریکا میں تگڑا تھا‘ سی آئی اے نے اسے ٹاسک دیا اور اس نے تین کام کیے‘ اول اس نے پنجابیوں کے لیے مطالعہ پاکستان اور اسلامیات کا سلیبس بنایا اور اس میں افغانوں کو عظیم فاتح‘ کمانڈر اور عالم اسلام کا ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔ 

اسلامیات میں جہاد سے متعلق آیات‘ احادیث اور واقعات اکٹھے کر دیے گئے اور ان دونوں مضامین کو پاکستانی اسکولوں اور کالجوں کے لیے لازمی قرار دے دیاگیا‘ دوم امریکا نے پاک افغان سرحد پرسیکڑوں مدارس بنوائے‘ ان کے لیے نئے علماء کرام اور اساتذہ کا بندوبست کیا گیا۔ 

مدارس کے سلیبس سے بھی انسانیت‘ رواداری اور برداشت نکال کر جہاد‘ کفر سے مقابلہ اور توہین مذہب ڈال دیا گیا‘ امریکا نے اس زمانے میں پاکستانیوں کو یہ یقین دلانا شروع کر دیا سوویت یونین میں لادین اور کافر بستے ہیں‘ یہ مسجدوں میں گھوڑے باندھتے ہیں اور قرآن مجید کو (نعوذباللہ) بستر کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یہ گستاخ رسول بھی ہیں۔

امریکی سپانسرڈ مدارس میں افغانوں کے ساتھ ساتھ پنجابی بھی پڑھتے تھے یوں ان مدارس سے ایک نئی اور شدت پسند نسل نے جنم لے لیا اور سوم امریکا نے افغانوں اور پاکستانیوں دونوں کو یقین دلا دیا افغانستان ناقابل تسخیر ہے۔

یہ تاریخ کے کسی دور میں کسی قوم کے تابع نہیں رہا‘ افغان مر جاتے ہیں لیکن دوسرے کی اطاعت نہیں کرتے‘ افغانوں کو یہ بھی یقین دلا دیا گیا تم سچے مسلمان ہو اور باقی دنیا کافر ہے اور جو تمہیں نہ مانے یا تمہارا ساتھ نہ دے وہ کافر ہے اور اس کی جان لینا تم پر فرض ہے۔ 

یہ سلسلہ 30 سال چلا اور اس نے افغانوں اور پاکستانیوں دونوں کا ذہن بدل دیا اور یہ یونیورسٹی آف نبراسکا کا کمال تھا‘ اس دوران پاکستان نیو کلیئر پاور بن گیا اور اس نے میزائل بھی بنانا شروع کر دیے۔ 

میزائل سازی میں ان لوگوں کا زیادہ ہاتھ تھا جن کے آباؤ اجداد افغان کمانڈرز کے ساتھ ہندوستان آئے تھے اوریہاں بس گئے تھے چناں چہ انھوں نے میزائلوں کے نام غزنوی‘ غوری‘ ابدالی اور بابر رکھ دیے‘ ان ناموں سے انڈین گھبراتے اور چڑتے تھے اور جس چیز سے انڈین کو مرچیں لگتی ہیں ہم من حیث القوم اسے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں۔

ہمارا بس نہیں چلتا تھا ہم اپنی ہاکی اور کرکٹ ٹیم کو بھی اسی طرح غوری‘ غزنوی اور ابدالی کا نام دے دیتے جس طرح ہم نے چھ اور سات کے ہندسے اور جہاز کو انڈیا کی چھیڑ بنا دیا ہے بہرحال قصہ مختصر پروپیگنڈا اور جعلی سلیبسوں کا یہ نتیجہ نکلا ہم نے افغانوں کے لیے اپنے معاشرے اور معیشت دونوں کا بیڑہ غرق کر لیا اور افغانوں کو ناقابل تسخیر ہونے کا یقین دلا دیا اور آج حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں یہ ہم پر حملے کر رہے ہیں اور ہم انھیں حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔

ہمارے پاس اب تین آپشن ہیں اور ہمیں ان تینوں پر بیک وقت کام کرنا پڑے گا‘ اول‘ پاکستان تاخیر سے ہی سہی لیکن اب اندر اور باہر دونوں جگہوں پر ’’ہارڈ اسٹیٹ‘‘ کا تاثر دے رہا ہے‘ ہمیں یہ سختی مزید بڑھانا ہوگی۔ 

پاکستان کے کسی بھی بارڈر پر کوئی بھی خلاف ورزی ہو اس کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیے جو ہم نے جنوری 2024میں ایران‘ مئی 2025میں انڈیا اور اکتوبر میں افغانستان کے ساتھ کیا‘ ملک کے اندر بھی کسی کو سڑک بند کرنے یا کسی شہر کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

احتجاج جمہوری حق ہے لیکن کسی کو یہ حق ٹریفک روک کر ادا کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور یہ اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اگریہ سعد رضوی کے لیے جرم ہے تو مریم نواز اورعمران خان کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہونا چاہیے‘ اگر کوئی بھی شخص شٹر ڈاؤن یا پہیہ جام کی کال دے ریاست کو اسے تیر کی طرح سیدھا کر دینا چاہیے۔ 

حکومت احتجاج کے لیے ہر شہر میں کوئی جگہ طے کر دے‘ اس کے علاوہ کسی جگہ احتجاج کی اجازت نہیں ہونی چاہیے‘ دوم مذہب پرائیویٹ فعل ہوناچاہیے‘ کسی کو کسی کے عقائد پر سوال اٹھانے یا اعتراض کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ 

جو کسی کو کافر یا بدعتی قرار دے اسے لمبی سزا ملنی چاہیے‘ عبادت کی اجازت صرف مسجد اور گھر میں ہونی چاہیے‘ سڑک‘ سرراہ یا کسی عوامی مقام پر عبادت پر پابندی ہونی چاہیے‘ مساجد اور مدارس کا انتظام ریاست کے پاس ہونا چاہیے‘ سلیبس بھی ریاست تیار کرے اور اساتذہ کا تعین بھی حکومت کے ہاتھ میں ہو۔ 

مسجدوں کو بھی ریاست ڈیزائن کرے اور یہی بنائے‘ حکومت اس کے لیے علماء کرام کا بورڈ بھی بنا سکتی ہے اور مسجدوں کا انتظام اس کے سپرد کر سکتی ہے اور سوم ملک کو نارمل بنائیں‘ جنگی ترانے بجانا بند کر دیں‘ قوم کو پلیز ’’اے مرد مجاہد جاگ ذرا‘‘ سے باہر نکالیں‘ ان ترانوں نے پوری قوم کو مجاہد بنا دیا ہے۔ 

قوم کو مجاہدوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز‘ انجینئرز‘ الیکٹریشن اور پلمبر بھی چاہیے ہوتے ہیں اگر ترانہ اتنا ضروری ہے تو مہربانی فرما کر اسے ’’اے مرد مجاہد جاگ ذرا‘ اب وقت مشقت ہے آیا‘‘ میں تبدیل کر دیں۔

عوام کو لڑائی سے ہٹا کر کتابوں‘ فلموں‘ موسیقی‘ مصوری‘ اسپورٹس اور ڈیبیٹ پر لگائیں‘ بسنت جیسے تہواروں سے پابندی اٹھائیں اور شہروں میں جم اور جاگنگ ٹریکس بنائیں تاکہ لوگ کڑاہی گوشت اور مرنے مارنے سے نکل سکیں۔

اگر یونیورسٹی آف نبراسکا نے سلیبس کے ذریعے ہمیں ابنارمل سوسائٹی بنا دیا تو ہمیں اب پنجاب یونیورسٹی یا سندھ یونیورسٹی کی مدد سے نارمل سوسائٹی کا سفر طے کرنا چاہیے ورنہ ڈھلوانوں کا یہ سفر ہمیں مزید پستی میں لے جائے گا اور اس کے اوپر کسی نہ کسی مذہبی جماعت کا جھنڈا لہرارہا ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی اجازت نہیں ہونی چاہیے یونیورسٹی آف نبراسکا ہونا چاہیے افغانوں کے افغانوں کو امریکا نے اور اس نے جاتے تھے ہیں اور گیا اور تھے اور کے ساتھ ہے اور کسی کو اور یہ کے لیے

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی