چہرے اور پارٹیاں نہیں، فرسودہ نظام بدلنے سے ملک آگے بڑھے گا، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مردان:۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ چہرے اور پارٹیاں نہیں، نظام بدلنے سے ملک کے مسائل حل ہوں گے، دو فیصد سے کم اشرافیہ نے 98 فیصد عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے، معیشت، زراعت، صنعت کے شعیوں میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے،عدالتوں اور پولیس کے نظام میں اصلاحات لانی ہوں گی۔
جامعہ مفتاح العلوم شیرگڑھ مردان میں فضلاءکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے تحریک اسلامی سے وابستہ علماءپر زور دیا کہ وہ تمام مسالک کے احترام کو یقینی بناتے ہوئے فروعی اختلافات سے بالاتر ہوکر اقامت دین کی جدوجہد کو تیز کریں۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر عطا الرحمن، امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی مولانا مفتی عبدالواسع، صدر مرکزی ختم نبوت مولانا مفتی امتیاز مروت، امیر ضلع مردان غلام رسول،مدیر جامعہ مفتاح العلوم مولانا صفی اللہ نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے شرکاءکو نومبر میں مینار پاکستان کے سائے تلے ہونے والے تین روزہ اجتماع عام میں شرکت کی دعوت دی اور کہا کہ علماءاپنے خطبات اور دروس میں اجتماع کی دعوت کو عام کریں، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اجتماع عام ملک میں تبدیلی کا پیشہ خیمہ ثابت ہوگا اور ملک میں موجود سیاسی خلا کو پُر کرنے اور تقسیم کو ختم کرنے کی نوید بنے گا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم سب کو دینی علوم کے ساتھ جدیدیت کو سمجھنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے، سیکولرازم، لبرل ازم، سرمایہ دارانہ نظام، مغربی نظریات کو سمجھے اور جانے بغیر اقامت دین کے پیغام کو عام نہیں کیا جاسکتا۔ علما خصوصی طور مغرب اور جدید نسل (Generation Z) کے رویوں کو سمجھیں، ہمیں اس اہم پہلو کو مدِ نظر رکھنا ہوگا کہ مغرب میں فلسطین کے حق میں آواز بہت توانا اور مضبوط ہوئی ہے، بلاشبہ یہ حماس اور اہل غزہ کی قربانیوں کا نتیجہ ہے، اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر اسلام کے آفاقی نظام کو پھیلایا جائے۔ امیر جماعت اسلامی نے بنگلادیش جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبا کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آخرکار قربانیاں اور جدوجہد رنگ لائی اور اللہ تعالیٰ نے تحریک اسلامی کے لیے راستے کھول دئیے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسلامی دنیا کے حکمران استعمار کے آلہ کار ہیں، استعمار سے نجات کے لیئے امت کو اجتماعیت کے اصول پر اکٹھا کرنا ہوگا اور اس ضمن میں سب سے بڑی ذمہ داری علما پر ہے، لوگوں تک رسائی حاصل کریں اور ان کی رہنمائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر مسلط حکمران ناکام ہوگئے ہیں، عوام ان سے چھٹکارا چاہتے ہیں، انہیں رہنمائی اور قیادت درکار ہے اور موجودہ حالات میں صرف جماعت اسلامی ہی یہ فریضہ سرانجام دے سکتی ہے۔ علما اپنے علم اور کردار سے عوام کے دل و دماغ کو تسخیر کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے امیر جماعت اسلامی کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔