افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی مرحلہ وار بحالی؛ 300 گاڑیوں کی کلیئرنس کا آغاز WhatsAppFacebookTwitter 0 23 October, 2025 سب نیوز

کراچی:(آئی پی ایس) افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو مرحلہ وار بحال کردیا گیا ہے، جس کے بعد 300 گاڑیوں کی کلیئرنس کا آغاز کردیا گیا ہے۔

پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے ساتھ دوحا میں طے پانے والے ”فوری جنگ بندی“ معاہدے کے تناظر میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ 10روز کی معطلی کے بعد مرحلہ وار بنیادوں پر بحال کردیا ہے۔ 10روز قبل تقریباً 300 سے زائد گاڑیاں مختلف مقامات پر پھنس گئی تھیں۔

ابتدائی طور پر چمن کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ آپریشن بحال کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانزٹ ٹریڈ (کسٹمز) کی جانب سے ایک تفصیلی حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق کارگو آپریشن کو 3 مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ تمام معمول کے ٹرانزٹ ٹریڈ آپریشن ”فرسٹ اِن، فرسٹ آؤٹ“ (فی فو) کی بنیاد پر بیک لاگ کے کلیئر ہونے کے بعد بحال ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں ان 9 گاڑیوں کو کلیئر کیا جائے گا جو فرینڈ شپ گیٹ پر سرحد بند ہونے کے باعث واپس بھیجی گئی تھیں، ان گاڑیوں کا دوبارہ وزن اور اسکینگ کی جائے گی اور کسی بھی قسم کی تضاد کی صورت میں 100فیصد جانچ پڑتال کی جائے گی۔

دوسرے مرحلے میں ان 74 گاڑیوں کو پراسیس کیا جائے گا جو این ایل سی بارڈر ٹرمینل یارڈ سے واپس کی گئی تھیں، ان گاڑیوں کو بھی دوبارہ وزن اور اسکینگ کے عمل سے گزارا جائے گا اور اگر کسی فرق کی نشاندہی ہوئی تو ان کی مکمل تلاشی لی جائے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیلی پارلیمنٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے کو ضم کرنے کی منظوری دے دی لاہور آج بھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر آگیا پاکستان معاشی استحکام کی راہ پر گامزن ہے ، وزیر خزانہ کی جرمن کمپنیوں کو سرمایہ کاری کرنے کی دعوت ایندھن کی قلت کا معاملہ، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے خطرے کی گھنٹی بجادی باجوڑ: سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، ایک خوارجی ہلاک، دیگر زخمی حالت میں فرار ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ صارفین کے لیے بجلی سستی ہونے کا امکان علیمہ خان کے چوتھی مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: افغان ٹرانزٹ ٹریڈ مرحلہ وار

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے