پنجاب یونیورسٹی کی دھواں چھوڑنے والی بسوں پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
پنجاب کی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) نے پنجاب یونیورسٹی کی دھواں چھوڑنے والی بسوں پر پابندی لگادی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایجنسی کی ٹیموں نے چند یونیورسٹی کی بسوں کو کینال روڈ پر روکا اور انہیں چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ شدید دھواں خارج کر رہی تھیں۔
مزید برآں ان کے پاس بس کا ضروری فٹنس سرٹیفیکیٹ بھی نہیں تھا۔ ان بسوں کو ضبط کر لیا گیا ہے اور ان کے خلاف ماحولیاتی ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کی گئی ہے۔
یہ کارروائی اس مرحلے کا حصہ ہے جس میں پنجاب بھر میں “یونیورسٹیوں، کالجوں، اسکولوں، اسپتالوں وغیرہ کی دھواں چھوڑنے والی بسوں کو سڑکوں پر آنے سے منع کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں اسموگ اور فضائی آلودگی کی شدت بڑھ چکی ہے اور گاڑیاں خاص طور پر پرانی، غیر فٹ یا دھواں چھوڑنے والی بسیں اور ٹرک آلودگی کے بڑے ذمہ دار سمجھے جا رہے ہیں۔
اس حوالے سے ای پی اے نے صوبے بھر میں پُرانی یا ناقابلِ قبول بسوں اور بھاری گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دھواں چھوڑنے والی
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔