معیشت میں بہتری: پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے سرپلس میں آگیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ ستمبر میں 11 کروڑ ڈالر کے سرپلس میں چلا گیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے نکل کر سرپلس میں آگیا ہے۔
مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق ستمبر 2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ 5 کروڑ 20 لاکھ ڈالر خسارے میں تھا، تاہم مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 59 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک جا پہنچا۔
اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک نے یاد دہانی کرائی کہ 18 ستمبر کو جاری رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مالی سال کے ابتدائی دو مہینوں (جولائی تا اگست) کے دوران ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 62 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا، جبکہ جون 2025 میں یہی کھاتہ 33 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے سرپلس میں تھا۔
مرکزی بینک کے مطابق جولائی میں 37 کروڑ 90 لاکھ ڈالر اور اگست میں 24 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم ستمبر میں صورتحال بہتر ہو کر مثبت اعداد میں آگئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسٹیٹ بینک کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ملکی معیشت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ملکی معیشت وی نیوز کا کرنٹ اکاؤنٹ لاکھ ڈالر سرپلس میں کے مطابق
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔