Jang News:
2026-06-03@05:23:07 GMT

ستمبر میں کرنٹ اکاونٹ 11 کروڑ ڈالر سرپلس رہا، اسٹیٹ بینک

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

ستمبر میں کرنٹ اکاونٹ 11 کروڑ ڈالر سرپلس رہا، اسٹیٹ بینک

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اعلان کیا ہے کہ ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ 11 کروڑ ڈالر سرپلس رہا ہے۔

کراچی سے جاری اعلامیے کے مطابق ستمبر میں ملکی درآمدات 5 اعشاریہ 02 ارب ڈالر اور برآمدات 2 اعشاریہ 63 ارب ڈالر رہی ہیں۔

اعلامیے کے مطابق ستمبر میں ملک کا تجارتی خسارہ 2 اعشاریہ 39 ارب ڈالر اور خدمات کا خسارہ 19 اعشاریہ 8 کروڑ ڈالر رہا ہے۔

ایس بی پی کے اعلامیے کے مطابق ستمبر میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 3 اعشاریہ 26 ارب ڈالر رہا ہے۔

اعلامیے کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ 59 اعشاریہ 4 کروڑ ڈالر خسارے میں رہا جبکہ اس دوران ملکی برآمدات 7 اعشاریہ 90 ارب ڈالر رہیں۔

ایس بی پی اعلامیے کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران ملکی درآمدات 15 اعشاریہ 43 ارب ڈالر رہیں جبکہ تین ماہ میں تجارتی خسارہ 7 اعشاریہ 53 ارب ڈالر رہا۔

اعلامیے کے مطابق تین مہینوں میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 10 اعشاریہ 64 ارب ڈالر رہا، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی ورکرز ترسیلات 9 اعشاریہ 53 ارب ڈالر رہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: اعلامیے کے مطابق کروڑ ڈالر ڈالر رہا ارب ڈالر

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ