ستمبر میں کرنٹ اکاونٹ 11 کروڑ ڈالر سرپلس رہا، اسٹیٹ بینک
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اعلان کیا ہے کہ ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ 11 کروڑ ڈالر سرپلس رہا ہے۔
کراچی سے جاری اعلامیے کے مطابق ستمبر میں ملکی درآمدات 5 اعشاریہ 02 ارب ڈالر اور برآمدات 2 اعشاریہ 63 ارب ڈالر رہی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق ستمبر میں ملک کا تجارتی خسارہ 2 اعشاریہ 39 ارب ڈالر اور خدمات کا خسارہ 19 اعشاریہ 8 کروڑ ڈالر رہا ہے۔
ایس بی پی کے اعلامیے کے مطابق ستمبر میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 3 اعشاریہ 26 ارب ڈالر رہا ہے۔
اعلامیے کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ 59 اعشاریہ 4 کروڑ ڈالر خسارے میں رہا جبکہ اس دوران ملکی برآمدات 7 اعشاریہ 90 ارب ڈالر رہیں۔
ایس بی پی اعلامیے کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران ملکی درآمدات 15 اعشاریہ 43 ارب ڈالر رہیں جبکہ تین ماہ میں تجارتی خسارہ 7 اعشاریہ 53 ارب ڈالر رہا۔
اعلامیے کے مطابق تین مہینوں میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 10 اعشاریہ 64 ارب ڈالر رہا، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی ورکرز ترسیلات 9 اعشاریہ 53 ارب ڈالر رہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعلامیے کے مطابق کروڑ ڈالر ڈالر رہا ارب ڈالر
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔