سیکڑوں پلاسٹک سرجریاں کروانے کے لیے خاتون نے 5 کروڑ خرچ کر ڈالے
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنوبی کوریا میں خوبصورتی کے معیار نے ایک خاتون کو اس قدر جنون میں مبتلا کردیا کہ وہ 15 برسوں کے دوران 400 سے زائد پلاسٹک سرجریاں کروا بیٹھیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خاتون نے اپنی ظاہری خوبصورتی کو پرفیکٹ بنانے کی کوشش میں 2 لاکھ امریکی ڈالرز یعنی تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ پاکستانی روپے خرچ کیے۔ ابتدا میں انہوں نے معمولی سی سرجری کروائی، مگر وقت کے ساتھ یہ عادت ان کی لت بن گئی اور یوں ان کا چہرہ اور جسم مسلسل آپریشنز کی زد میں آتا رہا۔
ان کے سرجیکل سفر میں ناک، ہونٹ، گال اور جسم کے دیگر حصوں پر بار بار آپریشن شامل ہیں۔ چہرے پر فلرز، بوٹوکس اور مختلف قسم کی مصنوعی تبدیلیاں بھی کی گئیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خوابوں جیسے چہرے اور جسم کی تلاش میں ہیں، مگر ہر نئی سرجری کے بعد انہیں لگتا ہے کہ ابھی مزید بہتری کی گنجائش باقی ہے۔
ماہرینِ طب اور نفسیات نے اس رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسلسل پلاسٹک سرجریز نہ صرف جلد اور جسم کو نقصان پہنچا سکتی ہیں بلکہ ذہنی توازن کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
ایسے افراد اکثر Body Dysmorphic Disorder (BDD) کا شکار ہوتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے، جس میں انسان اپنے خدوخال سے غیر حقیقی حد تک عدم اطمینان محسوس کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور جسم
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔