شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیاں، 10 خوارجی جہنم واصل
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیاں، 10 خوارجی جہنم واصل WhatsAppFacebookTwitter 0 17 October, 2025 سب نیوز
شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی اور دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے 10 خوارجیوں کو جہنم واصل کر دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے 16 اکتوبر کو ٹنگ کلی (دتہ خیل) میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا اور فائرنگ کے تبادلے میں 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔
سکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جس پر فورسز نے 8 سے 10 روز تک علاقے کی بھرپور نگرانی کی اور 16 اکتوبر کو دہشت گردوں کو گھیرے میں لے کر کارورائی کی۔
ہلاک دہشت گردوں میں فتنۃ الخوارج کا کمانڈر محبوب عرف محمد شامل ہے۔
سکیورٹی فورسز کی کارروائی علاقے میں امن دشمن عناصر کے خلاف آپریشن کا حصہ ہے، عوام اور سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں۔
دوسری کارروائی کے دوران میر علی میں ایک خوارجی نے بارود سے بھری گاڑی سیکیورٹی فورسز کے کیمپ کی دیوار سے ٹکرائی جو دھماکے سے پھٹ گئی، جس کے بعد تین مزید خوارجیوں نے کیمپ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔
سکیورٹی فورسز کی بروقت اور بہادرانہ کارروائی کے نتیجے میں تینوں خوارجی کیمپ کے باہر ہی جہنم واصل کر دیے گئے۔ الحمدللہ! سیکیورٹی فورسز کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔
گزشتہ 4 روز کے دوران افغان طالبان رجیم کے بھیجے گئے 94 خوارج جہنم رسید کیے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان شاء اللہ، نیشنل ایکشن پلان کے تحت، آخری خوارجی کے خاتمے تک افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع کے لیے یوں ہی ڈٹے رہیں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب میں مذہبی جماعت کی 40 مساجد محکمہ اوقاف کے حوالے پنجاب کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دے دی زون فائیو ہاؤسنگ اسکیم کا معاملہ پھر گرم، سی ڈی اے نے او پی ایف کے خلاف نوٹس جاری کر دیا،کاپی سب نیوز پر قطر کی ثالثی، پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات آج دوحہ میں ہوں گے بھارت کی خودمختاری کا بھانڈا پھوٹ گیا، امریکی دباؤ پر روسی تیل کی خریداری نصف کر دی پنجاب میں پاور شیئرنگ، بلدیاتی قانون سازی پر ڈیڈلاک: پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی ملاقات بے نتیجہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کیلئے کس کس نے کوالیفائی کیا؟ 20 ٹیموں کی لائن اپ مکملCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز جہنم واصل فورسز کی
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ