مغربی کنارے کے انضمام کی قرارداد، امن معاہدے کےلیے خطرہ ہے: روبیو
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمام کی اسرائیلی پارلیمنٹ کی قرارداد امن معاہدے کےلیے خطرہ ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی وزیرِخارجہ مارکوروبیو نے کہا ہے کہ متعدد ممالک غزہ کے لیے بین الاقوامی فورس میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔
امریکی وزیرِخارجہ نے اپنے دورہ اسرائیل سے قبل بیان میں واضح کیا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کے اقدام سے امریکی صدر ٹرمپ کی کوششوں سے ہونے والی غزہ امن ڈیل کو نقصان ہوسکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکو روبیو آج اسرائیل پہنچیں گے۔
یہ واضح کرتے چلیں امریکی صدر گزشتہ ماہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ بنانے کی اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ’وہ اسرائیل کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔