متعدد ملک غزہ کیلئے بین الاقوامی فورس میں حصہ لینے کو تیار ہیں: امریکی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ دنیا کے متعدد ممالک نے غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی امن فورس میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق، کئی حکومتیں اس منصوبے کو خطے میں پائیدار استحکام کے لیے اہم سمجھتی ہیں اور مختلف ممالک اپنے فوجی یا تکنیکی ماہرین بھیجنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے مغربی کنارے کے بعض حصوں کے انضمام سے متعلق حالیہ قانون سازی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور خبردار کیا کہ یہ اقدام جاری غزہ امن معاہدے کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کے بقول، اگر اسرائیل نے اس قانون پر عمل درآمد شروع کیا تو علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے امن کے لیے کی جانے والی کوششیں متاثر ہوں گی۔
اسی سلسلے میں، امریکی حکومت کی درخواست پر برطانیہ نے بھی اپنے فوجیوں کا ایک چھوٹا دستہ اسرائیل بھیجنے کی منظوری دے دی ہے تاکہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد اور نگرانی کے عمل میں تعاون کیا جا سکے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق، فوج کے ایک سینئر کمانڈر سمیت محدود تعداد میں اہلکار اسرائیل پہنچ چکے ہیں، جو مقامی اور بین الاقوامی مبصرین کے ساتھ مل کر سکیورٹی انتظامات کی نگرانی کریں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹ کام (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے تصدیق کی تھی کہ غزہ امن منصوبے کی مانیٹرنگ کے لیے تعینات کیے جانے والے تقریباً 200 فوجیوں میں امریکی اہلکار شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس فورس میں اتحادی ممالک کے فوجی نمائندے شامل ہوں گے جو غیر جانب دار کردار ادا کرتے ہوئے امن عمل کو یقینی بنائیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی برادری غزہ میں جنگ بندی کے بعد ایک پائیدار اور دیرپا امن معاہدے کے قیام کے لیے سرگرم ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، بین الاقوامی امن فورس کی تعیناتی سے علاقے میں اعتماد کی فضا بہتر بننے اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے محفوظ راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی کے لیے
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔