دراندازی نہ ہونے کی یقین دہانی تک افغان سرحد بند رہے گی: دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات سے متعلق دفتر خارجہ نے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس دیکھیں، ان مذاکرات سے متعلق ہمیں کچھ علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان ترکیہ صدر کی ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتا ہے۔ پاکستان ترکیہ کے ثالثی وفد کو خوش آمدید کہے گا اور مذاکرات کیلئے بھی تیار ہے۔ ترکیہ وفد کے ابھی تک دورہ نہ کرنے کی وجہ پاکستان کا تعاون نہ کرنا نہیں ہے۔ ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا افغانستان نے اب اپنی جانب سے سرحدیں بند کی ہیں وہ ہی جواب دے سکتا ہے۔ ہم نے فی الوقت سرحدیں امدادی کارروائی کیلئے ہی کھولی ہیں۔ پاکستان نے دو ٹوک مؤقف دہراتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا کہ جب تک افغان حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کی روک تھام کی پختہ یقین دہانی نہیں کرائی جاتی اس وقت تک سرحد بند رہے گی۔ پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا مسئلہ صرف ٹی ٹی پی یا ٹی ٹی اے نہیں، افغان شہری بھی پاکستان میں سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں۔ سرحد کی بندش کے تناظر کو اسی حقیقت میں سمجھا جائے۔ پاکستان کا افغانستان کے عوام سے کسی قسم کا اختلاف نہیں، افغان عوام کیلئے امدادی راہداری میں پاکستان ہمیشہ مثبت رہا ہے۔ بارڈر پالیسی کا تعلق افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عملی تعاون سے ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا صدر پیوٹن کا دورہ بھارت دونوں خودمختار ممالک کا باہمی معاملہ ہے۔ بھارت اور روس کے ممکنہ دفاعی معاہدوں پر پاکستان کی کوئی مخصوص پوزیشن نہیں ہے۔ ریاستیں اپنے دو طرفہ تعلقات بڑھانے میں خودمختار ہیں۔ انہوں نے کہا بھارتی حکومت کی مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسوں پر تشویش ہے، آج بابری مسجد کا 33واں یوم شہادت ہے، یہ واقعہ آج بھی تشویش اور دکھ کاباعث ہے، مسلم مذہبی علامتوں اور تاریخی ورثے کو نقصان پہنچانے کے ہر عمل کا شفاف احتساب ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ نے کہا
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔