عمران خان قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں، پشاور جلسے میں قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پشاور جلسے میں قرار داد منظور کرلی، جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں۔
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی عوام عمران خان کو ایک قومی ہیرو اور پاکستان کا منتخب حقیقی وزیراعظم مانتے ہیں، جنہیں 8 فروری 2024 کو عوام نے ووٹ دے کر منتخب کیا تھا۔ ہم اس بات کو یکسر مسترد اور شدید مذمت کرتے ہیں کہ وہ یا ان کے ساتھی کسی طرح قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا پشاور میں جلسہ: بہت جلد ڈی چوک جانے کی کال دوں گا، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا اعلان
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان، بشریٰ بی بی اور تمام سیاسی قیدیوں کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور فوراً رہا کیا جائے۔ عمران خان کی اپنے اہلِ خانہ، وکلا اور سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پر کوئی پابندی نہ لگائی جائے۔
ہم اس سیاسی جدوجہد کے تمام شہدا چاہے وہ 9 مئی کے ہوں، 26 نومبر کے ہوں یا کسی اور موقع کے، کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم ان تمام یونیفارم پہنے جوانوں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ دیا۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان سب کی قربانیاں کبھی فراموش نہ کی جائیں۔
ہم اپنے صوبے میں گورنر راج کے کسی بھی تصور کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے تمام رکاوٹوں اور دھاندلی کے باوجود عمران خان اور پی ٹی آئی کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔ گورنر راج کے نتیجے میں بننے والی کوئی بھی حکومت عوام کی نظر میں غیر قانونی اور غیر آئینی ہوگی۔
ہم ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس میں استعمال کیے گئے لہجے اور رویے پر سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔ ایک غیر منتخب عسکری ترجمان نے منتخب قیادت کے لیے غیرمہذب زبان استعمال کی، جس میں عمران خان، جو عوام کے نزدیک جائز وزیراعظم اور قومی ہیرو ہیں، اور سہیل آفریدی جو خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ ہیں اور 4 کروڑ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، شامل ہیں۔ یہ رویہ قائداعظم کے سول سپرمیسی کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
ہم اس غلط اور گمراہ کن منطق کی بھی مذمت کرتے ہیں جس کے ذریعے سیاسی رائے اور اختلاف رکھنے والوں کو بتدریج بڑھتا ہوا قومی سلامتی کا خطرہ کہا گیا، اور پھر سخت ردعمل کی دھمکی دی گئی۔ یہ آئینی حدود، سول بالادستی، عوامی مینڈیٹ اور مسلح افواج کی عزت کے خلاف ہے۔ اس لیے ہم قوم اور اس کی منتخب قیادت سے باضابطہ معافی اور ذمہ دار افراد کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ایسی زیادتی دوبارہ نہ ہو۔
ہم امن کے حامی ہیں اور دہشتگردی کے خلاف کھڑے ہیں۔ ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گزشتہ ماہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے امن جرگہ میں تمام جماعتوں کی متفقہ قرارداد پر فوراً عمل کیا جائے، اور امن جرگے میں آئے پی ٹی ایم وفد کو فی الفور بازیاب کرایا جائے۔
ہم خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کے بہادر عوام پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں ہم نے دی ہیں، 80 ہزار شہادتوں میں سے 40 ہزار سابق فاٹا میں اور 60 ہزار سے زیادہ خیبر پختونخوا اور سابق فاٹا میں ہوئیں۔ اس سب کے باوجود 1973 سے آج تک ہمیں اپنے حقوق نہیں ملے۔
سستی بجلی کی مد میں این ایچ پی کا واجب الادا حصہ، اور فاٹا کے عوام سے انضمام کے وقت کیے گئے وعدے اب تک وفا نہیں ہوئے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں یہ حقوق فوراً دیے جائیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور تجارت کو فوری طور پر مکمل طور پر بحال کیا جائے، اور تنازعات کو سفارتی انداز (ڈپلومیٹک چینلز) کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ دوطرفہ تعلقات اور معاشی حالات بہتر ہوسکیں
ہم نے دیکھا کہ کیسے پاکستان میں انتخابی نتائج میں دھاندلی کی گئی۔ اسی طریقے سے پختونخوا اور بالخصوص پشاور میں بدترین دھاندلی ہوئی۔ ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری اور مکمل انصاف یقینی بنایا جائے اور صوبائی حکومت و اسمبلی پشاور اور پختونخوا میں اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تحقیقات کریں اور ذمہ داران کو سزا دیں۔
مزید پڑھیں: پشاور جلسہ: اسد قیصر کے خطاب کے دوران کارکنان کے ’ڈی چوک ڈی چوک‘ کے نعرے
ہم اس ملک کے مستقبل پر یقین رکھتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر ایسا عمل شروع کیا جائے جو جمہوریت اور آزادیِ اظہار کو بحال کرے، عدلیہ کو آزاد کرے، سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور اس بحران سے نکلنے کے لیے راستہ نکالے، تاکہ پوری قوم ایک ہو کر اپنے مستقبل کو مضبوط بنا سکے اور جو قوتیں پاکستان کو کمزور کرنا چاہتی ہیں اُن کا مقابلہ کر سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ڈی چوک سہیل آفریدی عمران خان قومی سلامتی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈی چوک سہیل ا فریدی قومی سلامتی وزیراعلی خیبرپختونخوا وی نیوز مطالبہ کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا قومی سلامتی کیا جائے کہا گیا ڈی چوک کے لیے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔