ایک شخص قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا، یہ واضح ہے جو وہ چاہتا ہے وہ نہیں ہو سکتا : ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص نیشنل سیکیورٹی کیلئے خطرہ بن چکاہے ، یہ واضح ہے کہ جو وہ چاہتا ہے وہ نہیں ہو سکتا ، چیف آف ڈیفنس کے ہیڈکواٹر کے آغاز پر سب کو مبارکباد پیش کرتاہوں ، پاکستان نہیں بلکہ 70 سے زائد ممالک میں چیف آف ڈیفنس کا ہیڈکواٹر موجود ہے ۔
پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سب کو مبارک ہو کہ چیف آف ڈیفنس کے ہیڈ کواٹر کا آغاز ہو گیاہے ،چیف آف ڈیفنس کا آفس جنگی معاملات پر مکمل آگاہی فراہم کرے گا، اب وار فیئر میں ملٹی ڈومین آپریشنز ہیں، اب زمین، پانی اور ہوا میں نہیں بلکہ سپیس میں بھی جنگ لڑی جاتی ہے ، جنگ کی مدت کم اور شدت زیادہ ہوئی ہے ، اس میں ایفیشنسی حاصل کرنے کیلئے چیف آف ڈیفنس ہیڈکواٹر ایک لازمی ضرورت تھی جس کا لمبے عرصہ سے انتظار تھا، صرف پاکستان میں نہیں بلکہ 70سے زائد ممالک ہیں جہاں چیف آف ڈیفنس کا ہیڈکواٹر موجود ہے ۔
ایک شخص سیاست ختم ہو چکی اب اس کا بیانیہ پاکستانی کی قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
انہوں نے کہا کہ ایک شخص نیشنل سیکیورٹی کیلئے تھریٹ بن گیاہے ، اس کا بیانیہ نیشنل سیکیورٹی کیلئے تھریٹ ہے ، وہ شخص اپنی خواہشات کا غلام ہے ،اس کے نزدیک اس کی ذات اور خواہشات ریاست پاکستان سے بڑھ کر ہیں، اس کی فرسٹیشن اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں نہیں تو کچھ نہیں، اب سیاست ختم ہو چکی ہے ،اس کا بیانیہ پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کیلئے تھریٹ بن چکاہے ، یہ واضح ہے کہ جو وہ چاہتا ہے وہ نہیں ہو سکتا، منفی بیانیے کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے ، ہم پاکستان کی افواج ہیں، ہم کسی علاقیت ، لسانیت ، کسی مذہبی جھکاؤ یا سیاسی سوچ اور مکتبہ فکر کی نمائندگی نہیں کرتے ، ہم میں پاکستان کے ہر علاقے، ہر مذہب ، ہر مسلک ہر زبان کے لوگ موجود ہوتے ہیں، جب ہم یہ یونیفارم پہن لیتے ہیں تو یہ سب کچھ ایک طرف کر دیتے ہیں، یہ یونیفارم ہمارا فخر ہے ، ہم پاکستان کے عوام اور ملک کی سلامتی کیلئے جدوجہد کرتے ہیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ۔
ایم کیو ایم والے صرف شوشے چھوڑتے ہیں، انہیں سنجیدہ مت لیا کریں: ناصر حسین شاہ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: نیشنل سیکیورٹی کیلئے چیف ا ف ڈیفنس ایک شخص
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔