حکومت مذہبی جماعتوں کے خلاف نہیں، ٹی ایل پی سیاست نہیں انتشار پھیلا رہی تھی، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
لاہور:
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ حکومت مذہبی جماعتوں کے خلاف نہیں ہے، ٹی ایل پی سیاست نہیں انتشار پھیلا رہی تھی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ حکومت کسی مذہبی تنظیم یا جماعت کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس مخصوص ذہنیت کے خلاف اقدامات کر رہی ہے جو ملک میں انتشار کا سبب بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی کو ایک منظم پروجیکٹ کے طور پر لانچ کیا گیا تھا اور جو سرگرمیاں وہ انجام دے رہے تھے وہ سیاسی احتجاج نہیں تھا بلکہ امن و امان خراب کرنے کی کوششیں تھیں، جنہیں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ماضی میں بعض جماعتیں پابندی کے بعد نام تبدیل کر کے سرگرم ہو جاتی تھیں، لیکن اس بار حکومت نے ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی پراسیکیوٹر سیل تشکیل دے دیا ہے تاکہ ملوث عناصر کو تیزی سے قانونی کٹہرے میں لایا جا سکے۔ اس سیل کے ذریعے شواہد کی بنیاد پر تحقیقات اور مقدمات کی قانونی پیروی ممکن بنائی جائے گی۔
وزیرِ اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کی قیادت سے متعلق اطلاعات کے مطابق وہ پنجاب میں موجود نہیں کیوں کہ اس طرح کے لوگ گرفتاری سے بچنے کے لیے جگہیں بدلتے رہتے ہیں ، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں ٹریس کر رہے ہیں اور جلد ہی گرفتاریوں کی خبریں سامنے آنے کا امکان ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ٹی ایل پی کے خلاف
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔