زرعی نظام میں کیڑے مکوڑے نقصانات باعث بنتے ہیں،وائس چانسلر
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251026-2-10
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت) سندھ زرعی یونیورسٹی میں انٹومولوجیکل سوسائٹی آف سندھ اور اسٹوڈنٹس ٹیچرز انگیجمنٹ پروگرام (اسٹیپ) کے باہمی تعاون سے‘‘سیکنڈ انٹرفیکلٹی کوئز کمپیٹیشن 2025ء’’کا کامیاب انعقاد کیا گیا جس میں میزبان زرعی یونیورسٹی سمیت مختلف جامعات اور تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی ہمیں حشرات پر تحقیقات کرانا ہو گی تاکہ معلوم ہو سکے کہ ہمارے ماحول اور فصلوں کے لیے کون سے حشرات بہتر ہیں معلوم ہو سکے، وائس چانسلر۔ تفصیلات کے مطابق سندھ زرعی ٹنڈوجام میں طلبہ اور طالبات کے درمیان انٹو مولوجکیل سوسائٹی آف سندھ کے تحت مقابلے منعقد ہوئے جن میں انسیکٹ پینٹنگ اور انسیکٹ ڈسپلے باکس سمیت کوئز کی نشستیں شامل تھیں جس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کی، جبکہ اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف کراپ پروٹیکشن ڈاکٹر عبدالمبین لودھی، پروفیسر ڈاکٹر منظور علی ابڑوپروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد نظامانی، ڈاکٹر محمد عمران کھتری، ڈاکٹر آغا مشتاق احمد، ڈاکٹر عرفان احمد گلال اور دیگر ماہرین بھی شریک ہوئے ۔اس موقع پر طلبہ نے ٹیبلو اور مزاحیہ شاعری بھی سنائی، بعدازاںججز کمیٹی کی جانب سے مقابلوں کے نتائج بھی جاری کئے جس کے مطابق انسیکٹ پینٹنگ کے مقابلے میں گورنمنٹ گرلز کالج ٹنڈوالٰہیار کی طالبہ سدرۃ المنتہیٰ نے پہلی پوزیشن حاصل کی ۔سندھ زرعی یونیورسٹی کے عبدالحکیم نے دوسری جبکہ فیڈرل اردو یونیورسٹی کراچی کی صفیہ اشفاق نے تیسری پوزیشن حاصل کی ۔انسیکٹ ڈسپلے باکس کے مقابلے میں محمد افضل اور شیراز علی نے پہلی اشفاق احمد اور محمد عدیل نے دوسری، جبکہ امینہ فاطمہ اور عبدالاحد نے تیسری پوزیشن حاصل کی ۔اس موقع پر اپنے خطاب میں وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ موسمی تبدیلیوں کے بعد فصلوں پر مختلف اور نئے حشرات کے منفی اثرات ظاہر ہوئے ہیں،لہٰذا پاکستان میں حشرات کی سائنسی تحقیق اور ان کے معاشی و زرعی کردار کو سمجھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی نظام میں کیڑے مکوڑے نہ صرف نقصانات کا باعث بنتے ہیں بلکہ قدرتی توازن، پولینیشن، اور مٹی کی صحت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ کتابی علم کے ساتھ ساتھ عملی مشاہدے اور تحقیقی تجربات پر توجہ دیں تاکہ وہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی فصلوں کے تحفظ، اور پائیدار زراعت کے چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹ سکیں۔ ڈین ڈاکٹر عبدالمبین لودھی نے کہا کہ سندھ زرعی یونیورسٹی کا مقصد نوجوان نسل کو صرف تعلیم نہیں بلکہ سائنس جدت اور عملی تحقیق سے جوڑنا ہے انہوں نے اسٹیپ پروگرام اور انٹومولوجیکل سوسائٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے مقابلے طلبہ میں تحقیقی ذوق، مشاہداتی صلاحیت اور سائنسی سوچ کو فروغ دیتے ہیں آخر میں وائس چانسلر، ڈین اور دیگر ماہرین نے کامیاب طلبہ و طالبات میں نقد انعامات اور تعریفی اسناد تقسیم کیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: زرعی یونیورسٹی وائس چانسلر ڈاکٹر ا کہا کہ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔