ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے سندھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر انسدادِ پولیو مہم میں تسلسل برقرار نہ رہا تو آئندہ تین سالوں میں کیسز کی تعداد بیس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جناح اسپتال کراچی کے نجم الدین آڈیٹوریم میں ای او سی سندھ کی جانب سے عالمی یوم انسداد پولیو مہم کے حوالے سے ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں صوبائی وزیرِ صحت و بہبودِ آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو بطورِ مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں۔

تقریب میں سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، عالمی ادارۂ صحت، یونیسف اور دیگر شراکت دار اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔

ای او سی سندھ کے آرڈینیٹر ارشاد سوڈھر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پولیو ورکرز کی خدمات کو فرنٹ لائن ہیرو قرار دیا اور کہا کہ ہم ان شاء اللہ جلد پولیو فری ڈے منائیں گے۔

انہوں کہا کہ 24 اکتوبر کو ویکسین کا دن منایا جاتا ہے اور یہ دن پولیو ورکرز کے نام ہونا چاہیے کیونکہ سب سے مشکل کام دھوپ، بارش، گرمی اور سردی میں پولیو ورکرز کرتے ہیں،انہوں نے سیلاب میں کشتیوں پر جاکر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین دی ہے۔

صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے پولیو ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیو ورکرز اپنے گھروں اور بچوں کو چھوڑ کر عوام کی خدمت کر رہی ہیں،اگر اسی طرح ہمارا ساتھ رہا تو جلد پولیو کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ انشاء اللہ 2026 میں سندھ کو پولیو فری بنائیں گے۔

ڈاکٹر عذرا نے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کو پولیو کے قطرے بخوبی پلائیں کیونکہ جو بچہ بظاہر صحت مند لگتا ہے، وہ بھی وائرَس پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

تقریب میں پولیو سے متاثرہ ڈاکٹر اختر عباس نے بھی اپنی زندگی کی کہانی سنائی، انہوں نے بتایا کہ ساڑے تین سال کی عمر میں مجھے پولیو ہوا تھا اور اس کے باوجود اللہ کے فضل سے میں نے الٹراساؤنڈ میں ٹریننگ لے کر آج بحیثیتِ پیشہ کا آغاز کیا۔ ڈاکٹر اختر نے کہا کہ یہ دو قطرے بچوں کی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں۔

وزیرِ صحت نے بتایا کہ جناح اسپتال وفاق سے لیز پر لیا گیا ہے انہوں نے اسپتال کو آوٹ سورس کرنے کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں کو مسترد کردیا۔ انہوں نے ڈینگی کے کیسز کے حوالے سے کہا کہ جو مریض او پی ڈی میں آ رہے ہیں، وہی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ صوبے کی ڈسپنسریز میں پی پی ایچ آئی فعال طور پر کام کر رہا ہے۔

تقریب میں عالمی ادارۂ صحت اور یونیسف کے نمائندوں نے بھی ویکسین کے ثابت شدہ اثرات اور پولیو مہم کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور والدین سے بار بار اپیل کی کہ وہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے دیں تاکہ پاکستان کو جلد از جلد پولیو سے پاک کیا جا سکے۔

تقریب کے آخر میں شرکاء نے پولیو ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مزید عوامی شعور بیدار کرنے کے لیئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پولیو ورکرز انہوں نے کو پولیو پولیو سے بچوں کو کہا کہ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک