سردار مسعود خان کی کشمیری شاعروں اور ادیبوں سے معاشرے کی فکری اور نظریاتی رہنمائی کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کشمیر ہمیشہ سے زبان و ادب کے لیے ایک زرخیز سرزمین رہا ہے جس نے برصغیر کے فکری اور ثقافتی منظرنامے پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کشمیری شاعروں اور ادیبوں پر زور دیا ہے کہ وہ فکری اور نظریاتی طور پر معاشرے کی رہنمائی کریں اور کشمیری قوم کی تقدیر کا ازسر نو تعین کریں۔ ذرائع کے مطابق سردار مسعود خان مظفرآباد میں پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز اور اے جے کے کلچرل اکیڈمی کے زیراہتمام مشترکہ طور پر منعقدہ دو روزہ قومی ادبی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کشمیر، پاکستان اور امت مسلمہ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے، خطہ کے مردوں اور عورتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھائیں اور انصاف پر مبنی معاشروں کی عالمی ضرورت پرزور دیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر نوجوان ادیب اپنے ادبی کام کے ذریعے قوم کی تقدیر بدلنے کا عزم کر لیں تو قومی اور عالمی سطح پر مثبت تبدیلی ناگزیر ہو جائے گی۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیر ہمیشہ سے زبان و ادب کے لیے ایک زرخیز سرزمین رہا ہے جس نے برصغیر کے فکری اور ثقافتی منظرنامے پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ انہوں نے علامہ محمد اقبال، آغا حشر کاشمیری، شورش کاشمیری، رشید امجد، کرشن چندر اور چراغ حسن حسرت جیسی روشن مثالوں کا حوالہ دیا جنہوں نے اپنے منفرد انداز تحریر اور افکار کے ذریعے اردو ادب میں ممتاز مقام حاصل کیا۔ سابق صدر نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کی تاریخ جرات، وقار اور قربانیوں کی داستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے کے لوگوں نے نہ ماضی میں مہاراجہ کے جبر کو برداشت کیا اور نہ ہی آج وہ بھارت کے زبردستی قبضے کو قبول کرنے کو تیار ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جون اور اکتوبر 1947ء کے درمیان خطے کے لوگوں نے صدیوں پرانی حقیر حکمرانی کو ختم کر کے 5000مربع میل کے علاقے کو آزاد کرایا اور جموں و کشمیر کے مقبوضہ حصوں کی آزادی کو یقینی بنانے کے مقصد سے اپنی حکومت قائم کی۔انہوں نے کہا کہ 24 اکتوبر کشمیر کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ وہ دن ہے جو ہماری شناخت کا نشان ہے جب صدیوں کی محکومی کے بعد اس سرزمین نے اپنی پہلی حکومت کی بنیاد رکھی تھی۔تقریب سے پاکستان اکادمی ادبیات کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں آزاد کشمیر بھر سے شاعروں، ادیبوں اور ادبی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ فکری اور انہوں نے
پڑھیں:
کلچر کب تہذیب بنتا ہے
سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔
ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔
سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔
شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔
تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔
ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔
تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔
آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔
تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔