data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کے زیرِ اہتمام کراچی پریس کلب میں ’’سوشل سیکورٹی کے چیلنجز اور مستقبل کا راستہ‘‘ کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا، جس میں سماجی تحفظ کے ماہرین، ٹریڈ یونین رہنماؤں اور سرکاری نمائندوں نے سندھ میں محنت کشوں کے سماجی تحفظ سے متعلق اہم مسائل پر گفتگو کی۔
سیمینار کا بنیادی مقصد سوشل سیکورٹی کے دائرہ کار کو رسمی شعبے سے آگے بڑھا کر غیر رسمی معیشت سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں، گھریلو خواتین محنت کشوں اور دیگر کمزور طبقات تک پھیلانے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرنا تھا، جو موجودہ نظام کی پہنچ سے باہر ہیں۔

پروگرام کے آغاز میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پائلر کے ڈائریکٹر عباس حیدر نے کہا کہ سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی میں 8 لاکھ محنت کش رجسٹرڈ ہیں، مگر محض 80 ہزار ہی سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس کی وجہ آگہی کا فقدان اور ملازمت کے تحریری معاہدوں کی کمی ہے۔ گھریلو اور پلیٹ فارم ورکرز 2,400 روپے کی خود ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتے۔اس حوالے سے مناسب رجسٹریشن فارمولا بنانا ہوگا اور سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کی کارکردگی کو بہتر کرنے کے لیے کرپشن اور سیاسی تقرریوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز، ٹرینگ و ریسرچ وسیم جمال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمارا قانون صرف ان محنت کشوں کو کوریج دیتا ہے جو کم از کم اجرت اور اس سے پانچ ہزار روپے زیادہ تنخواہ یا اجرت پر کام کرتے ہیں، سوشل سیکورٹی میں محنت کشوں کی رجسٹریشن کی حد کم ہونے کی وجہ سے محنت کشوں کی بڑی تعداد سماجی تحفظ کی اسکیم سے محروم ہیں
اس حوالے سے دیگر صوبوں نے اپنے قوانین میں ترمیم کرلی ہے، سندھ کو بھی اس حوالے سے سوشل سیکورٹی ایکٹ میں ترمیم کرنا ہو گی۔ ہم نے رئیل ٹائم کنٹری بیوشن کی تصدیق کے لیے موبائل ایپ متعارف کر دی ہے، جس کے ذریعہ اب کوئی فرد معلوم کر سکتا ہے کہ وہ سیسی میں رجسٹرڈ ہے یا نہیں، اور اجر نے اس کا کنٹری بیوشن کب اور کتنا ادا کیا ہے، جبکہ ہمارے اسپتال محنت کشوں کو بغیر کسی حد کے مکمل طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ گھریلو خواتین محنت کشوں کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ ان کے لیے خود اپنا ماہانہ کنٹری بیوشن ادا کرنا مشکل نظر آرہا ہے۔

شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ لیبر ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل، اطہر شاہ نے کہا کہ قانون کے مطابق محنت کشوں کو مضبوط تحفظ حاصل ہے، لیکن عملی نفاذ کمزور ہے۔ ہمیں ’ورکر‘ کی تعریف کو وسیع کرنا ہوگا تاکہ ہر محنت کرنے والا فرد قانون کے دائرے میں آسکے، اور یونین سازی و آگہی کو فروغ دینا ہوگا۔ پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی نے زور دیا کہ معاشی مشکلات نے محنت کشوں کو صرف بقا کی جنگ تک محدود کردیا ہے۔ پائلر کی نمائندہ شمیم علی نے کہا خواتین محنت کشوں کو محنت کش قوانین اور سوشل سیکورٹی تک رسائی میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اصلاحات میں خواتین دوست پالیسیاں شامل کی جائیں اور ورکرز کو مناسب تربیت فراہم کی جائے۔کراچی یونین آف جرنلسٹس کے رہنما طاہر حسن خان نے کہا صحافیوں کو اکثر محنت کش قوانین میں نظرانداز کیا جاتا ہے۔ محکمہ محنت سندھ، میڈیا ورکرز کے کیسز پر توجہ دے اور ان کے حقوق کے حصول کا طریقہ کار واضح کرے۔ سیسی کو انتظامی مسائل دور کر کے اپنی خدمات عام افراد تک پہنچانا چاہیے۔
مقررین نے اجتماعی طور پر سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوٹ کو ایک جامع، شفاف اور موثر ادارہ بنانے کے لیے اپنی سفارشات پیش کیں۔جن میں کہا گیا کہ تمام محنت کشوں کو سوشل سیکورٹی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اس مقصد کے لیے ماہر معاشیات، لیبر اداروں اور یونین رہنماؤں پر مشتمل اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس قائم کی جائے۔
سندھ سوشل سیکورٹی میں رجسٹریشن کے لیے وہی معیار اختیار کیا جائے جو دیگر صوبوں میں نافذ ہے (کم از کم اجرت + 50%)۔

سندھ سوشل سیکورٹی ایکٹ 2016 کی سیکشن 27(A) میں کی گئی ترمیم پر فوری عمل درآمد کیا جائے اور متعلقہ قواعد تشکیل دیے جائیں، حکومت سوشل سیکورٹی کارڈ (بینظیر مزدور کارڈ) میں گھریلو محنت کشوں کی رجسٹریشن کو BISP کے ذریعہ آسان بنائے۔ SESSI میں سیاسی بھرتیوں کو بند کیا جائے۔ ادارے کو مکمل طور پر میرٹ پر چلایا جائے، سیسی کے انفراسٹرکچر میں توسیع کی جائے، صنعتی اور رہائشی علاقوں کے قریب نئے اسپتال اور ڈسپنسریاں قائم کی جائیں، SESSI کی گورننگ باڈی کو حقیقی آجر و اجیر کی نمائندگی کے ذریعے مضبوط کیا جائے، اور گورننگ باڈی کے تمام فیصلے عوام کے سامنے لائے جائیں۔ ادارے کے تمام شعبوں میں اعلیٰ درجے کی شفافیت اور موثر احتسابی نظام قائم کیا جائے۔ محنت کشوں کو اسکیم کی سہولیات سے آگاہ کرنے کے لیے وسیع آگہی مہم چلائی جائے۔ آجر، اجیر اور لیبر سپورٹ تنظیموں پر مشتمل ریجنل مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں تا کہ SESSI کے اسپتالوں میں بروقت اور معیاری خدمات کی فراہمی یقینی ہو سکے۔
شرکاء نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان سفارشات پر فوری عملدرآمد یقینی بنائے تاکہ صوبے کے تمام محنت کشوں، خصوصاً غیر رسمی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد بالخصوص ڈومیسٹک ورکرز، ہوم بیسڈ ورکرز اور پلیٹ فارم ورکرز تک سماجی تحفظ کی رسائی ممکن ہو سکے۔

شاہد غزالی گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: محنت کشوں کو کیا جائے نے کہا کے لیے

پڑھیں:

فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان

 اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن