محنت کشوں کو اپنے مسائل کے حل کیلیے سخت جدوجہد کرنا ہوگی‘ پروفیسر شفیع
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) محنت کشوں کو اپنے مسائل کے حل کیلیے انتھک جدوجہد کرنا ہوگی۔ پاکستان میں لیبر قوانین کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اور محنت کشوں کے حقوق غصب کیے جارہے ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے ملک میں غربت میں اضافہ کردیا ہے۔ الکاسب فورم کے تحت محنت کشوں کے مسائل حل کریں گے اور محنت کشوں کی تربیت کے پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے۔ یہ بات وی ٹرسٹ کے چیئرمین پروفیسر محمد شفیع ملک نے الکاسب فورم کے قیام اور اس کے پہلے اجلاس اور مذاکرہ ’’محنت کشوں کے مسائل اور ان کا حل‘‘ سے اپنے صدارتی خطاب میں کہی۔ الکاسب فورم کے انچارچ قاسم جمال نے الکاسب فورم کے قیام کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔پروفیسر شفیع ملک نے کہا کہ این ایل ایف کے تعاون اور مشاورت سے ہم الکاسب فورم کو چلائیں گے اور اس فورم میں شریک ہونے والی شخصیات این ایل ایف ہی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش انتہائی مصائب اور پریشانی کا شکار ہیں اور ان سے نجات کاواحد راستہ محنت کشوں کا اتحاد اور ان کی تربیت ہے۔ محنت کشوں کو قانونی تربیت فراہم کر کے ان کی مشکلات کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ اس فورم کے نتائج چھے ماہ کے بعد برآمد ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الکاسب فورم کے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔