data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (پ ر) محنت کشوں کو اپنے مسائل کے حل کیلیے انتھک جدوجہد کرنا ہوگی۔ پاکستان میں لیبر قوانین کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اور محنت کشوں کے حقوق غصب کیے جارہے ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے ملک میں غربت میں اضافہ کردیا ہے۔ الکاسب فورم کے تحت محنت کشوں کے مسائل حل کریں گے اور محنت کشوں کی تربیت کے پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے۔ یہ بات وی ٹرسٹ کے چیئرمین پروفیسر محمد شفیع ملک نے الکاسب فورم کے قیام اور اس کے پہلے اجلاس اور مذاکرہ ’’محنت کشوں کے مسائل اور ان کا حل‘‘ سے اپنے صدارتی خطاب میں کہی۔ الکاسب فورم کے انچارچ قاسم جمال نے الکاسب فورم کے قیام کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔پروفیسر شفیع ملک نے کہا کہ این ایل ایف کے تعاون اور مشاورت سے ہم الکاسب فورم کو چلائیں گے اور اس فورم میں شریک ہونے والی شخصیات این ایل ایف ہی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش انتہائی مصائب اور پریشانی کا شکار ہیں اور ان سے نجات کاواحد راستہ محنت کشوں کا اتحاد اور ان کی تربیت ہے۔ محنت کشوں کو قانونی تربیت فراہم کر کے ان کی مشکلات کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ اس فورم کے نتائج چھے ماہ کے بعد برآمد ہوں گے۔

خبر ایجنسی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: الکاسب فورم کے

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم