پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت پولیس کی صلاحیت میں بہتری لا رہی ہے، جس کیلئے بہتر تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر ہم آہنگی پر کام کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے شہروں میں کچھ فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات بھی پیش آئے ہیں، لیکن ہم ان سے سختی سے نمٹ رہے ہیں۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں امن و امان سے متعلق چیلنجز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں امن برقرار رکھنے پر پوری طرح توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، دیہی علاقوں میں ڈاکوؤں کی سرگرمیاں اور شہری مراکز میں اسٹریٹ کرائمز ہیں۔ مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ حکومت پولیس کی صلاحیت میں بہتری لا رہی ہے، جس کیلئے بہتر تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر ہم آہنگی پر کام کیا جا رہا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، تاکہ وہ ان خطرات سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹ سکے۔ وفاقی حکومت کے افغان شہریوں سے متعلق فیصلے پر ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اب قومی سطح پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ تمام افغان مہاجرین اپنے ملک واپس جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اس ضمن میں وفاقی پالیسی پر مکمل عمل درآمد کرے گی اور یہ یقینی بنائے گی کہ واپسی کا عمل پُرامن اور قانونی طریقے سے انجام پائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مراد علی شاہ نے نے کہا کہ

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود