ای چالان سسٹم کے نفاذ کے بعد دستی چالان کا سلسلہ ختم ہوگیا: ڈی آئی جی ٹریفک
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
ویب ڈیسک : ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا ہے کہ شہر میں ای چالان سسٹم کے نفاذ کے بعد ہاتھ سے چالان کاٹنے کا سلسلہ مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔
آئی جی سندھ کی زیر صدارت فیس لیس ای ٹکٹنگ سسٹم کی کارکردگی سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا جس میں اجلاس کے شرکاء کو ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ 27 اکتوبر سے فیس لیس ای ٹکٹنگ سہولت کا باقاعدہ نفاذ کیا جاچکا، روڈ سیفٹی یقینی بنانے کے لیے کراچی ٹریفک مینجمنٹ بورڈ کا قیام ناگزیر ہے۔
فضائی آلودگی کا وبال، لاہور دنیا کے آلودہ شہروں میں پھر سرفہرست
اجلاس میں سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی فیس لیس ای چالان متعارف کرانےکے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے ہدایت کی کہ بغیر نمبر پلیٹ چلنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ نے اجلاس میں بتایا کہ فیس لیس ٹکٹنگ کے نفاذ کے بعد دستی چالان کا سلسلہ مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔