WE News:
2026-07-24@08:31:58 GMT

مولانا فضل الرحمان ٹھیک شاٹس نہیں کھیل پا رہے

اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT

بات تو ہمارے محترم سیاستدان مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے کرنا ہے، مگر پہلے چند سطریں کرکٹ کے حوالے سیپڑھ لیں کہ ان کا براہ راست تعلق بنتا ہے۔

کرکٹ میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے، آوٹ آف فارم ہونا۔ ایسے میں کسی بڑے بلے باز کے لیے بھی اچھے شاٹس کھیلنا ممکن نہیں رہتا۔ گیند بلے پر ٹھیک سے مڈل نہیں ہوتا، ٹائمنگ خراب ہوتی ہے، اچھی بھلی گیند بھی مس ہوجاتی ہے۔

ایسی خراب فارم میں بڑے بلے باز بھی متواتر ناکام ہوتے ہیں۔ ا س کا ایک ہی طریقہ ہے کہ نیٹ پریکٹس میں اپنی خامیوں پر کام کیا جائے۔ اپنی تکنیک بہتر کی جائے، اچھی تکنیکی مشاورت لی جائے۔ اپنی غلطیوں کوٹھیک کرنے کی کوشش ہو اور پھر فارم واپس آ بھی جاتی ہے۔ پھر سے رنز بننے شروع ہوجاتے ہیں، عمدہ کارکردگی نظر آتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کے عقیدت مند، کارکن اور حامی اگر برا نہ مانیں تو یہ عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ مولانا کی فارم بھی آج کل خاصی خراب اور ناقص چل رہی ہے۔ وہ ٹھیک سے سیاسی شاٹس بھی نہیں کھیل پا رہے۔انہیں کئی بنیادی چیزوں کی سمجھ نہیں آ رہی یا بری ٹائمنگ اور کسی تکنیکی خامی کی وجہ سے وہ ٹھیک سے ڈیلیور نہیں کر پا رہے۔ مولانا کمزور بیانات دے رہے ہیں،غیر منطقی،غیر ضروری۔

کچھ دن پہلے ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں مولانا افغانستان کی غیر ضروری حمایت فرما رہے تھے۔ اس میں انہوں نے پاکستان کو طعنہ دیا کہ پاکستان نے امریکا کو لاجسٹک سپورٹ دی،ایئربیس دیے جہاں سے جہاز اڑکر افغان طالبان پر بمباری کرتے تھے۔ یہاں سے یہ ہوتا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس افسران کی خودکشی: اسباب، محرکات، سدباب

یوں لگ رہا تھا جیسے مولانا فضل الرحمان افغان طالبان حکومت کے کسی اہلکار کی زبان بول رہے ہوں۔ انہیں ذبیح اللہ مجاہد یا ان کی ٹیم میں سے کسی نے ایک پریس ریلیز بھیجی ہے جسے انہوں نے من وعن بول ڈالا۔

مولانا کے بعض حامیوں نے وضاحت کی کہ یہ ویڈیو پرانی ہے۔ کس قدر پرانی ہوگی؟ ظاہر ہے پاکستان افغانستان طالبان تنازع کے دوران ہی یہ بیان دیا گیا۔ اس بیان میں بڑے خوفناک تضادات تھے، جن کا مولانا فضل الرحمان کو بھی بخوبی علم تھا۔ اس کے باوجود صرف مخصوص سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے افغان طالبان حکومت کی حمایت کر دی گئی۔

یہ درست ہے کہ پاکستان نے امریکا کو لاجسٹک سپورٹ دی، ائیر بیس بھی دیے، مگر اس کی بڑی وجہ نائن الیون کے بعد کے معروضی حالات تھے۔ امریکا نے اقوام متحدہ سے اپنے حق میں قرارداد منظور کرا لی تھی اور افغان طالبان حکومت کے بلنڈرز اتنے بڑے تھے کہ چین تک اسے ویٹو نہ کر  پایا۔ امریکا کو دنیا بھر کی سپورٹ حاصل ہوگئی تھی اور پاکستان کے لیے اس کی مزاحمت کرنا عملی طور پر ناممکن ہوچکا تھا۔

پاکستان کو مجبوراً اس لیے بھی ساتھ دینا پڑا کہ بھارت بہت تیزی سے آگے بڑھا تھا اور وہ تاجکستان وغیرہ کے راستے امریکا کو وہی مدد دینے کو تیار تھا۔ پاکستا ن نے امریکا کو ائیر بیس تو دیے، وہاں سے افغان طالبان پر کچھ حملے بھی ہوئے ہوں گے، مگر بعد میں تو امریکا کے پاس پورا افغانستان تھا اور وہاں پر اس کے پاس ایئربیسز کی کوئی کمی نہیں تھی۔

اصل بات جس کا مولانا فضل الرحمان نے اعتراف نہیں کیا، پاکستانی عوام اور اپنے دینی حلقے کو نہیں بتائی، وہ یہ کہ پاکستانی حکومت اور خاص کر پاکستانی اداروں نے امریکا کو مجبوری کے عالم میں لاجسٹک سپورٹ تو دی مگر پھر اندرون خانہ افغان طالبان کو بھرپور مدد بھی دی گئی۔ پاکستان نے امریکا کے خلاف مزاحمت کے بیس برسوں میں مسلسل افغان طالبان لیڈرشپ کو سپورٹ دی، تحفظ فراہم کیا۔ قندھار شوریٰ اور حقانی نیٹ ورک کو شدید ترین امریکی دبائو کے باوجود نہیں چھیڑا۔ باون ہزار کے لگ بھگ افغان طالبان زخمیوں کا پاکستانی ہسپتالوں میں علاج ہوا۔

افغان طالبان جنگجووں کے اہل خانہ یہاں رہتے رہے، وہ لڑائی میں وقفہ لے کر اپنے گھروں کو لوٹتے اور آرام کر کے تازہ دم ہوکر واپس جاتے۔ پاکستان افغان طالبان کا بیس کیمپ تھا، یہاں سے ان کی سپلائی لائن جاری رہی اور پاکستان نے ممتاز افغان طالبان لیڈروں اور کمانڈروں کو امریکی سی آئی اے اور بلیک واٹر کے ایجنٹوں سے ہر ممکن تحفظ فراہم کیا۔ پاکستان کی اس مد د کے بغیر افغان طالبان کامیاب ہونا تو درکنا ر اپنی جنگ جاری تک نہ رکھ پاتے۔

دنیا کی کوئی بھی گوریلا تحریک اپنے پڑوس میں بیس کیمپ بنائے بغیر، کسی قریبی پڑوسی ملک کی حمایت اور تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ہر گوریلا تحریک کو پیچھے بیس کیمپ بنانا پڑتا ہے۔ خاص کر جب مقابلہ سپر پاور سے ہو تب تو یہ بات بہت ہی زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔

اگر مولانا فضل الرحمان جیسا محرم راز، جنہیں ہر بات کا پتا ہے، بہت کچھ کے وہ عینی شائد اور واقف حال ہیں، وہ بھی اگر سچ بیان کرنے کے بجائے افغان طالبان حکومت کو خوش کرنے کے لیے ان کابیانیہ دہرائیں گے تو یہ کس قدر افسوسناک اور قابل تنقید بات ہوگی۔ یہ بات کہنا ہی غلط ہے کہ چونکہ پاکستان نے امریکا کو اڈے دیے تھے، اس لیے اب افغان طالبان پاکستان کے مخالف ہیں۔ یہ کس قدر پوچ، کمزور اور غیر حقیقی بات ہے۔

کیا افغان طالبان نہیں جانتے کہ اس پورے عرصے  میں جب امریکا مسلسل چیخ پکار کر رہے تھے کہ پاکستان کوئٹہ شوریٰ کے خلاف کارروائی کرے، حقانی نیٹ ورک کو اکھاڑ پھینکے۔ پاکستان نے ایسا نہیں کیا۔ شدید ترین امریکی دباؤ کو برداشت کیا۔ ہمارے اداروں کے لوگوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر افغان طالبان کمانڈروں اور رہنمائوں کو محفوظ رکھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو موجودہ امیر مولانا ہبت اللہ کچلاک کی ایک مسجد میں 15،20 سال آرام سے نہ بیٹھے رہتے۔ وہ گوانتے ناموبے کی خوفناک جیل میں برسوں سڑتے رہتے۔ ملا برادر کو گرفتاری کے باوجود امریکیوں کے حوالے نہیں کیا گیا۔ وہ پاکستان میں دس برس ایک نام نہاد قیدمیں آرام سے زندگی بسر کرتے رہے۔ امریکیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا یا کہ ملا  برادر کو پاکستان کرزئی حکومت یا براہ راست امریکیوں کے حوالے کردے۔ کیا افغان طالبان نہیں جانتے یا مولانا فضل الرحمان واقف نہیں کہ پاکستان نے ایسا نہیں کیا؟

بات مولانا فضل الرحمان کے آوٹ آف فارم ہونے سے شروع ہوئی تھی۔ پچھلے سال فروری کے الیکشن میں انہیں پختون خوا میںبدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا، وہ اپنی آبائی سیٹ بھی بڑے مارجن سے ہار گئے، ان کیقریبی ساتھی بھی شکست کی خفت سے دوچار ہوئے۔ خوش قسمتی سے مولانا نے بلوچستان کی ایک محفوظ سیٹ سے بھی الیکشن لڑا تھا، یوں وہ اسمبلی میں پہنچنے میں کامیاب رہے۔ مولانا کو تب توقع تھی کہ بلوچستان کی وزارت اعلیٰ انہیں مل جائے گی۔ مولانا کے حامی انہیں سیاست کا امام کہتے ہیں۔ مولانا کے ساتھ ان کے ایک قریبی سیاسی دوست نے ہاتھ کر دیا، جن کے مداح انہیں سیاست کا امام اعظم کہتے ہیں۔

زرداری صاحب نے مولانا کو آوٹ کر کے بلوچستان کی وزارت اعلیٰ بھی لے لی، صدر مملکت بھی بن بیٹھے اور پختون خوا میں مولانا کے ایک بڑے سیاسی مخالف کو گورنر بھی بنا دیا۔

  مولانا فضل الرحمان تب سے کچھ ایسے اپ سیٹ ہوئے کہ ان کی بیٹنگ مزید خراب ہوگئی، رنز ہی نہیں بن پا رہے۔ بیچ میں تھوڑا سا وقفہ آیا، جب 26ویں ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت پلس اسٹیبلشمنٹ کو جے یوآئی کے سینٹ میں ووٹوں کی ضرورت پڑی۔ چند دنوں کے لیے مولانا فضل الرحمن کے دولت خانے میں رونق لگی۔ مختلف سیاسی وفود چکر لگانے لگے۔ جیسے ہی آئینی ترمیم ہوئی، مولانا کی اہمیت بھی ہوا ہوگئی۔ وہ پھر سے آوٹ ہوگئے۔

مزید پڑھیے: پاک افغان تنازع: بنیادی نکات پر یکسو ہونا پڑے گا

مولانا کو تب سے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے پھر سے اِن ہوا جائے۔ چند سن قبل اچانک ان کی جانب سے اسلام آباد مارچ کرنے اور دھرنا دینے کا اشارہ دیا گیا۔ نجانے کیوں ؟کہنے کو تو اسے  مہنگائی مکاو کا نام دیا گیا، مگر مولانا سے بڑھ کر کون جانتا ہے کہ مہنگائی یوں ختم نہیں ہوتی۔ خیر پھر لبیک کے خلاف کریک ڈاون سے شاید سبق سیکھ لیا گیا یا کچھ اور ہوا کہ مولانا اور ان کے ساتھی اس حوالے سے خاموش ہوگئے۔ شاید انہوں نے سوچا ہو کہ یہ کم بخت عوام مہنگائی کے نام پر باہر تو نکلتی نہیں، ہم کیوں اپنی توانائی ضائع کریں اور تحریک انصاف والا حشراپنے ساتھ کرا لیں۔

اب گزشتہ روز پھر اچانک مولانا جوش میں آگئے اور شاہد آفریدی کے انداز میں کریز سے باہر نکل کر چھکا لگانے کی کوشش کی۔ اس بار ان کا اٹیک پنجاب حکومت پر تھا۔

مریم نواز شریف کی حکومت نے آئمہ مساجد کے لیے ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ جس کے مطابق پنجاب حکومت 65 ہزار کے قریب آئمہ مساجد کو 25 ہزار روپے ماہانہ دے گی۔ یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے جس سے مساجد سے وابستہ افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس سے پہلے پختونخوا حکومت بھی آئمہ مساجد کو ماہانہ 10 ہزار روپے دے رہی ہے۔

کالم لکھنے سے پہلے محنتی، تحقیقی صحافی عبدالجبار ناصر سے بات ہوئی تو انہوں نے اپ ڈیٹڈ اعداد وشمار بھی شیئر کیے۔ مذمل اسلم پختونخوا حکومت کے مشیر ہیں، انہوں نے ہمارے صحافی دوست کو بتایا کہ صوبائی حکومت ’16 ہزار 860‘ آئمہ  کو ماہانہ 10 ہزار روپے دے رہی ہے۔

مولانا نے پنجاب حکومت کو طعنہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ چند سال پہلے تحریک انصاف نے 10 ہزار دینے کا اعلان کیا تھا، اب 6 سال بعد بھی مولوی کے لیے 10 ہزار ہی ہیں۔ مولانا کو شاید علم نہیں تھا کہ پنجاب حکومت 10 ہزار نہیں بلکہ 25 ہزار دے رہی ہے اور لینے والوں کی تعداد بھی پختون خوا سے 4 گنا زیادہ ہے، ویسے پنجاب بھی کے پی سے ڈھائی 3 گنا بڑا صوبہ ہے۔

میں نے یہ کالم لکھنے سے پہلے کئی لوگوں سے بات کی جن میں بعض آئمہ مساجد بھی شامل تھے مختلف مکاتب فکر سے ان کا تعلق ہے۔ سب نے خوشی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی بیشتر مساجد میں 10 سے 15 ہزار ماہانہ تک پیسے دییے جاتے ہیں، وہ بھی بڑی مشکل سے۔ نماز جمعہ کے بعد جمع ہونے والے چندے سے یہ تنخواہ اکٹھی ہوتی ہے۔ امام مسجد اس لیے بے چارے مجبوری سے راضی ہوجاتے ہیں کہ انہیں مسجد کے ساتھ ایک کمرہ مل جاتا ہے تو رہائش کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے اور پھر دن بھر وہ ٹیوشنیں پڑھا کر گزارا کرتے ہیں۔ 25 ہزار ان تمام آئمہ مساجد کے لیے ایک معقول اور اچھی پیش کش ہے۔

سوال یہ ہے کہ ا گر حکومت مولوی کے لیے کچھ کر رہی ہے تو یہ ان کا حق ہے، سرکاری خزانے سے پیسے مل رہے ہیں۔ کسانوں کو سبسڈی ملتی ہے، مزدوروں کے لیے بہت سی اسکیمیں ہیں، کبھی کبھار صحافیوں، وکلا وغیرہ کے لیے بھی کوئی سرکاری پلاٹس کی اسکیم آ جاتی ہے۔ مولوی صاحبان بے چارے محروم تھے، حالانکہ یہ دین کی خدمت کرتے ہیں، ان کے بغیر سماج کی بہت سی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہوسکتیں۔

مولانا اگر یہ مطالبہ کرتے تو بجا تھا کہ 25 ہزار کے بجائے کم از کم تنخواہ یعنی 40 ہزار روپے دیں۔ تب ہم سب بھی ان کی حمایت کرتے۔ اگر وہ یہ کہتے کہ 65 ہزار کی جگہ ایک لاکھ مولوی صاحبان کو یہ پیسے ماہانہ دیے جائیں تب بھی یہ مطالبہ کچھ وزن رکھتا ہے۔ مولانا کا یہ کہنا عجیب ہے کہ حکومت ان پیسوں سے مولویوں کا ایمان اور ضمیر خریدنا چاہتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان اپنے آپ کو پانچ لاکھ علما کانمائندہ کہتے ہیں، دینی مدارس اور مولوی صاحبان ان کا حلقہ (کانسٹی چیونسی) سمجھا جاتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو آئمہ مساجد کے ایمان، ضمیر اور کردار پر اتنا بھروسہ بھی نہیں؟ وہ کیا سمجھتے ہیں کہ اس حقیر رقم کے عوض یہ امام مسجد بک جائیں گے، سرنڈر کر دیں گے؟

میں نے مولانا کے حامی بعض اخبارنویسوں سے پوچھا کہ آخر مولانا فضل الرحمان نے یہ کمزور اور غیر منطقی بیان کیوں دیا؟ مجھے جواب ملا کہ مولانا فضل الرحمان عوام سے کٹ چکے ہیں۔ ان کے ایک مداح رپورٹر کا کہنا تھا کہ پہلے ان کے اردگرد کارکن ہوتے تھے، اب طبقہ اشرافیہ کا غلبہ ہے۔

میٹنگز میں، اسمبلی میں، جلسوں کے اسٹیج وغیرہ پر بھی ان کے اردگردایسے پیٹ بھرے لوگ ہیں، جن کا بھوک مسئلہ ہی نہیں۔ 25 ہزار کی ان کے نزدیک اوقات ہی کوئی نہیں۔

ان صحافی دوستوں کے مطابق یہ لیڈر پہلے اخبارات وغیرہ پڑھ کر عوامی مسائل سے کچھ واقفیت حاصل کر لیتے تھے، اب ان کی توجہ بھی صرف سوشل میڈیا ویڈیوز پر ہی ہے اور وہ بھی ستائشی ویڈیوز۔ اسی لیے مولانا فضل الرحمان یہ جانے بوجھے، سمجھے بغیر کہ آئمہ مساجد میں کس قدر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، انہوں نے خواہ مخواہ اس سہولت کو رد کرتے ہوئے اسے حکومت کے  منہ پر مار دینے کا اعلان کیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاک افغان جنگ: محرکات، اسباب، وجوہات کو جانیے اور سمجھیے

دو ڈھائی صدی قبل جب ہندوستان میں کرنسی نوٹوں کا چلن ہوا تو بعض علما نے اس کے خلاف فتویٰ دیا، ایک بڑے عالم دین تک وہ فتویٰ پہنچا تو انہوں نے برجستہ تبصرہ کیا، میں دستخط تو کر دوں، مگر فتویٰ نہیں چلے گا اور کرنسی نوٹ چل جائیں گے کیونکہ ان میں عوامی سہولت موجود ہے۔

بات یہ ہے کہ مولانا کے اعلان اور بیانات اپنی جگہ، یہ نہیں چلیں گے، آئمہ مساجد کو جو سہولت مل رہی ہے، وہ چل جائے گی۔ مولانا خود اپنی نظروں سے دیکھیں گے کہ ان کے مکتب فکر اور مسلک کے کتنے زیادہ امام مسجد درخواست دے کر یہ سرکاری سہولت حاصل کریں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

امریکا صدر زرداری طالبان جنگجو مولانا فضل الرحمان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا طالبان جنگجو مولانا فضل الرحمان مولانا فضل الرحمان افغان طالبان حکومت پاکستان نے امریکا کہ پاکستان نے نے امریکا کو پنجاب حکومت مولانا کو کہ مولانا ہزار روپے مولانا کے ا مولانا انہوں نے کے حوالے نہیں کیا حکومت کے کے خلاف کے ساتھ کے لیے تھا کہ رہی ہے پا رہے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت