امریکا ایک نئی جنگ چھیڑناچاہتاہے: صدر وینزویلا
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
امریکا ایک نئی جنگ چھیڑناچاہتاہے: صدر وینزویلا WhatsAppFacebookTwitter 0 25 October, 2025 سب نیوز
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے کہا ہےکہ امریکا ایک نئی جنگ چھیڑناچاہتا ہے لیکن ہم جنگ ہونے نہیں دیں گے۔
عالمی میڈیا کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکا کی جانب سے طیارہ برداربحری جہازکیریبین بھیجنے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔
انہوں نے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ امریکا ایک نئی جنگ چھیڑناچاہتاہے لیکن جنگ ہونے نہیں دیں گے۔
دوسری جانب کولمبین صدر گستاوو پیٹرو نے امریکی پابندیوں پر کہا ہےکہ منشیات کی غیرقانونی سرگرمیوں کےالزام پر امریکا نے مجھ پرپابندیاں عائد کی ہیں، ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹوں گااورکبھی گھٹنے نہیں ٹیکوں گا۔
واضح رہے کہ امریکا نے صدر پیٹرو پر عائد پابندیوں کے نتیجے میں ان کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کردیے گئے جب کہ امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کسی بھی مالی لین دین سے روک دیا گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک-افغان مذاکرات کا دوسرا دور آج استنبول میں ہوگا مریکا اور دیگر ممالک غزہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں، ترک صدر نیتن یاہو نے غزہ معاہدے کو خطرے میں ڈالا تو ٹرمپ انہیں خود سبق سکھائیں گے، امریکی اہلکار سعودی عرب سے متعلق توہین آمیز بیان پر انتہا پسند اسرائیلی وزیر نے معافی مانگ لی غزہ: امدادی سامان کی ترسیل میں اسرائیلی رکاوٹیں، سیز فائر کے 2 ہفتے بعد بھی بھوک و پیاس برقرار چین کا کھلے پن کے سلسلے میں چین کی ضروریات اور دنیا کی توقعات دونوں کو مدنظر رکھنے کا اعلان چین کا اسلامی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مثبت طور پر فروغ دینے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکا ایک نئی جنگ
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔