Jasarat News:
2026-06-03@08:08:54 GMT

اُجالے منتظر ہیں

اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کسی دانا کا قول ہے جو سیدنا علی سے منسوب کیا جاتا ہے ’’کفر کا نظام چل سکتا ہے ظلم کا نظام نہیں چل سکتا‘‘۔ ایسا نظام جس میں مظلوم کو انصاف اس کے مرنے کے بعد ملے، جس میں طاقتور کمزوروں پر حکمرانی کرے، جس میں منصف خود اپنی بولی لگاتے ہوں، جہاں محافظ ہی رہزن بنے بیٹھے ہوں، نیچے سے لے کر اوپر تک ہر ادارے میں لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم ہو، جہاں امیر، امیر تر بنتا جا رہا ہو اور غریب سے روٹی کا نوالہ بھی چھینا جا رہا ہو، تنخواہ دار طبقے بھاری ٹیکس ادا کرنے کے باوجود بنیادی سہولتوں سے محروم ہوں جبکہ ان کے ٹیکس پر پلنے والے وزراء اور سرکاری افسران اپنے پر تعیش بنگلوں میں چین کی بانسری بجا رہے ہوں تو ایسے میں ضرورت ہے کہ اس ظلم کے نظام کو بدلنے کے لیے آواز اُٹھائی جائے۔ ہمارا پیارا ملک پاکستان دنیا کے نقشے پر جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وہ خطہ ٔ زمین ہے جو بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے یہاں جنگلات، پہاڑ، دریا، سمندر، معدنیات اور چاروں موسم سب کچھ موجود ہے حتیٰ کہ انسانی وسائل کی بھی کمی نہیں ہے لیکن افسوس آج تک پاکستان کو ایسی مخلص اور ایماندار قیادت میسر نہ آ سکی جو ان تمام وسائل کو صحیح معنوں میں بروئے کار لا کر ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتی بلکہ جس نے بھی مسند اقتدار سنبھالی وہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتا رہا۔ ملکی معیشت کو کمزور اور اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کی کوشش میں ملک کو قرضوں کے اندھیروں کے سپرد کر دیا گیا۔ ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا چند مخصوص لوگوں ہی کو اقتدار کے مزے لوٹتے دیکھا ہے ان میں کچھ لوٹے بھی ہیں جو صرف اس مقولے پر عمل پیرا ہوتے ہیں کہ ’’چلو ادھر کو ہوا ہو جدھر کی‘‘ لہٰذا وہ کبھی ادھر کبھی ادھر لڑھکتے نظر آتے ہیں لیکن اقتدار کی مسند سے جونک کی طرح چمٹے ہوئے ہیں تاکہ ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں رہے۔ رہ گئے مظلوم عوام تو ان کا کیا ہے وہ بیچارے اچھے دنوں کی آس لگائے انہی لیڈرز کے پیچھے زندہ باد زندہ باد کے نعرے لگاتے اپنی زندگی ہار جاتے ہیں۔

کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے نوجوان ایک بہترین سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ اگر منظم اور متحد ہو جائیں تو تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ سکتے ہیں۔ بنگلا دیش اور نیپال کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ کس طرح منظم جہدوجہد کے ذریعے نوجوانوں کے سیل رواں نے ہر قسم کے بند کو توڑ کر اپنا حق حاصل کر لیا۔ ہمارے ملک کی آبادی کا تقریباً 62 فی صد نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کی اکثریت ملک کی سیاسی معاشی اور معاشرتی عدم استحکام کے باعث دل برداشتہ ہو کر بیرون ملک سکونت اختیار کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔

مشہور کہاوت ہے کہ بن روئے تو ماں بھی بچے کو دودھ نہیں دیتی لہٰذا مایوس نہ ہوں۔ مایوسی کفر ہے۔ اُجالے آپ کے منتظر ہیں۔ شب کی تاریکی جتنی زیادہ گہری ہوتی ہے طلوع سحر اتنا ہی قریب ہوتا ہے۔ راہ فرار اختیار کرنے کے بجائے آئیں متحد ہو کر نظام کو بدلنے کی بات کریں۔ جب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی نظام عملی طور پر بھی نافذ العمل ہوگا تو زندگی کے ہر شعبے میں عدل و انصاف ہوتا ہوا نظر آئے گا۔ ہر مظلوم کی دادرسی ہوگی۔ نہ لوٹ مار مچے گی، نہ کرپشن کو پنپنے کی جگہ ملے گی، نہ رشوت کا دور دورہ ہوگا اور نہ ہی محافظ کو راہزن بننے کے مواقع مل سکیں گے۔ اس کے لیے عوام خصوصاً نوجوانوں کو ہمت دکھانی ہوگی کیونکہ:

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

مینار پاکستان لاہور میں 21،22 اور 23 نومبر کو جماعت اسلامی ایک عظیم الشان اجتماع عام کا انعقاد کرنے جا رہی ہے جس کا سلوگن ہے ’’چہرے نہیں نظام بدلو‘‘ آئیں ہم سب مل کر اس جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالیں۔ دامے درمے سخنے جس سے جو کچھ بھی ممکن ہے اسے چاہیے کہ اپنے حصے کی شمع ضرور روشن کرے تاکہ ظلم کے نظام کی تبدیلی کے لیے اس کی گواہی بھی اللہ کے ہاں قبول ہو جائے۔

اے دوست کرو ہمت کچھ دور سویرا ہے

گر چاہتے ہو منزل پرواز بدل ڈالو

 

روزینہ خورشید.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں

پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی مومنہ اقبال حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔ لاہور میں ان کی دعائے خیر ، مہندی ، مایوں اور نکاح کی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کے دلہا حمزہ حبیب کا تعلق لاہور سے ہے، وہ کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کاروباری شخصیت ہیں تاہم وہ ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رہے۔ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال کو (ن ) لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے پر حمزہ حبیب اپنی اہلیہ کی حمایت میں سامنے آنے کے بعد خبروں کا مرکز بن گئے۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی اور مومنہ اقبال کی منگنی خاندانوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی جب کہ دونوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات بھی ہیں۔ جوڑے نے مئی 2026 کے آخر میں ایک نجی تقریب میں نکاح کیا تھا۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی سوشل میڈیا سٹوری کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی تحقیقات کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی