لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے 21 دسمبر کو پنجاب کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں دھرنا دینے کا اعلان کر دیا۔لاہور میں پنجاب کے بلدیاتی قانون کے خلاف مظاہرے سے خطاب میں حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ یہ پہلا ایکٹ لاتے ہیں اور اس کو چیلنج کر کے قوم کو بیوقوف بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کا بلدیاتی ایکٹ نہیں ہے، یہ کالا قانون ہے، یہ قانون شہروں کا اور یونین کونسل کا حق بھی کھا رہا ہے۔امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ جاگیرداروں نے پورے سسٹم پر قبضہ کیا ہوا ہے، یہ لوگ ظلم کے اس نظام کو قائم رکھتے ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ ہم 21 دسمبر کو پورے پنجاب کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں دھرنا دیں گے، یہ جو کچھ بانٹتے ہیں اپنے ہی خاندان میں دیتے ہیں۔

فوج صرف پریس کانفرنس کر کے جواب دے رہی ہے، ورنہ اس سے بہت کم گناہ کرنے پر مائیں اپنے بچوں کو ڈھونڈتی رہی ہیں، مصطفیٰ کمال

حافظ نعیم نے کہا کہ 40، 40 سال پولٹیکل ورکر محنت کرتا ہے لیکن کبھی پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا، یہاں تو چچا وزیرِ اعظم اور بھتیجی وزیرِ اعلیٰ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سب قوم کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں، ہم نے مل کر اس نظام کا خاتمہ کرنا ہے، جماعتِ اسلامی عوام کے ساتھ اتحاد کر رہی ہے، میں حکومت سے پوچھتا ہوں کہ کوئی عوام کی آواز کے لیے بینر لگائے اور آپ اتار دیں؟امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ تمام اختیارات بلدیاتی حکومتوں کے حوالے ہونے چاہئیں، تحصیل گورنمنٹ کا اختیار ہونا چاہیے، یہ ملکاؤ اور بادشاہوں کا نظام نہیں ہے، جس کو چاہا نواز دیا، ہم اس کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔

عبدالعلیم خان کا پنجاب اور سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مطالبہ

اُن کا کہنا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ ان لوگوں نے عدالتوں میں بھی قبضہ کیاہوا ہے، یہ جو خاندانی پارٹیاں ہیں، یہی مضبوط ہوتی رہیں، اس حوالے سے شعور آنا بہت ضروری ہے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ میں میاں نواز شریف سے پوچھتا ہوں کہ یہ کونسی ووٹ کو عزت ہے کہ حکمراں انڈر پاسز اور سڑکوں پر اپنی تختیاں لگاتے ہوئے نظر آئیں؟

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحم ن نے نے کہا کہ

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی