Juraat:
2026-07-24@01:35:43 GMT

پولیس رویہ۔۔ حسنین اخلاق بھی عدیل اکبر کی راہ پر؟

اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT

پولیس رویہ۔۔ حسنین اخلاق بھی عدیل اکبر کی راہ پر؟

میری بات/روہیل اکبر

حسنین اخلاق لاہور کی صحافت کا ایک معتبر نام جو اخلاص ،محبت اور وفا کا پیکر ہونے کے ساتھ ساتھ ہنس مکھ اور بے ضرر بھی ہے لیکن صحافی پورے دنوں کا ہے، وہ پولیس کے رویے سے اتنا تنگ آگیا کہ ایس پی عدیل اکبر کی طرح سوچنا شروع کردیا۔حسنین اخلاق کا قصہ انہی کی زبانی لکھوں گا لیکن پہلے ہمارے شیر جوانوں کا حال بھی پڑھ لیںجو وردی پہنتے ہی درندوں کا روپ دھار لیتے ہیں ۔پولیس والوں کے خون کا ٹیسٹ کروایا جائے تو بہت سے نشئی نکلیں گے۔ کانسٹیبل سے لیکر اوپر تک پینے اور پلانے والوں کے ساتھ ساتھ زانی بھی ملیں گے اور ڈاکوئوں کی بھی اس محکمہ میں کمی نہیں ہے۔ یوٹیوبر ڈکی بھائی کی بیوی کی درخواست پر جو مقدمہ درج ہوا ہے اس میں بہت سے پردہ نشین کھل کر سامنے آگئے اور آئے روز ڈکیتی اور اغواء برائے تاوان کی وارداتیں پولیس والے خود کرتے ہوئے پکڑے جارہے ہیں ۔ابھی کل ہی کی ایک تازہ ترین واردات بھی ملاحظہ فرمائیں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی)کا انسپکٹر تاجر کے اغوا کی واردات کا ماسٹرمائنڈ نکلا۔ انسپکٹر جاوید اقبال نے اہلکار کے ساتھ مل کرکاہنہ سے تاجر کو اغوا کیا۔ ملزمان نے مغوی کے اہل خانہ سے 40لاکھ روپے طلب کیے اور ایل او ایس کے قریب رقم وصول کی ۔دوران تفتیش انسپکٹرجاویداقبال اور اہلکار توصیف کا بھانڈہ پھوٹ گیا ۔یہ چھوٹے لیول کی کارروائیاں سرِ عام ہورہی ہیں۔ اب بڑے لیول کے ایس پی عدیل اکبر کی خود کشی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔
اگر پولیس کے افسران اور اہلکار ادارے کے اندر غیر انسانی رویوں، دباؤ، اور ناانصافی کے سبب خود کشی جیسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں توعام عوام کا کیا حشر ہوتا ہوگا۔ یہ وحشت اس نظام کی گہرائیوں میں چھپی سنگین خرابیوں کو ظاہر کرتی ہے ایس پی اسلام آباد کی خودکشی کوئی معمولی واقعہ نہیں، بلکہ ایک چیخ ہے اس سسٹم کے خلاف جو انصاف کے نام پر ظلم کو ادارہ جاتی شکل دے چکا ہے۔ جب ایک تربیت یافتہ افسر جو قانون کا محافظ ہے خود کو غیر محفوظ محسوس کرے تو پھر عام شہریوں کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔وہ تو پہلے ہی پولیس کے رحم و کرم پر ہیں۔ پولیس کلچر میں رائج طاقت کا غلط استعمال، افسران بالا کا دباو ، سیاسی مداخلت، اور محکمے کے اندر عزتِ نفس کی پامالی جیسے عوامل ایسے واقعات کو جنم دیتے ہیں ۔یہ سوچنے کا لمحہ ہے کہ جو ادارہ عوام کی جان و مال کا محافظ ہو، وہ خود اپنے اہلکاروں کی ذہنی اور اخلاقی حفاظت کیوں نہیں کر پاتا؟اسلام آباد پولیس کے ایک سینئر افسر ایس پی کی خودکشی نے پورے نظامِ انصاف کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ کسی ایک فرد کا ذاتی دکھ نہیں بلکہ ایک سسکتے ہوئے ادارے کی اجتماعی چیخ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پولیس معاشرے کی محافظ ہوتی ہے لیکن اگر یہی محافظ اپنے ہی اندر ظلم و زیادتی، بے انصافی اور بے قدری کا شکار ہوں تو پھر عوام کیا توقع رکھے؟ جب ایک اعلیٰ افسر اپنی جان لے لے تو سوچئے اْس سپاہی کا کیا حال ہوگا جو چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دیتا ہے، چھٹی نہیں ملتی اور معمولی غلطی پر افسران بالا کی گالیوں اور ذلت کا سامنا کرتا ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ ہمارے پولیس کلچر میں انسان نہیں، صرف ”رینک” کی عزت ہوتی ہے طاقتور افسر کا حکم حرفِ آخر ہے چاہے وہ غلط ہو ماتحتوں کی کوئی سننے والا نہیں ویسے بھی سیاست، سفارش اور انا پرستی نے اس ادارے کی روح کو کھوکھلا کر دیا ہے اسلام آباد کے ایس پی کا خودکشی کرنا دراصل ایک علامت ہے اس نظام کی جو اندر سے سڑ چکا ہے اسلام آباد کے صنعتی زون میں تعینات عدیل اکبر کی خود کشی نہ صرف ایک افسوسناک ذاتی سانحہ ہے بلکہ ریاستی فورسز کے اندر پائی جانے والی ایک گہری بیماری کی نمائندگی بھی ہے ۔وہ ایک تجربہ کار افسر تھے جنہوں نے مختلف اضلاعِ بلوچستان میں کام کیا اور اپنی قابلیت سے ادارے میں پہچان بنائی عدیل اکبر نے ایم فل کی ڈگری (گورننس اینڈ پبلک پالیسی) حاصل کی تھی ۔اگر ایک باوقار، ہوشمند اور اہل پولیس افسر ایسی حالت تک پہنچ سکتا ہے کہ اپنی جان لے لی تو پھر عام شہری کی حالت کا اندازہ کیا ہوگا؟ عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح لاٹھیوں سے ہانکا جاتا ہے کچھ اسی طرح کا واقعہ سینئر صحافی حسنین اخلاق کے ساتھ بھی پیش آیا۔ تھانہ شاد باغ کے فرعون صفت ایس ایچ او کا رویہ بھی پورے نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ صرف ایک تھانیدار کی کہانی نہیں بلکہ لاہور سمیت ملک بھرکے تقریبا ہر تھانے کا یہی حال ہے۔ حسنین صاحب لکھتے ہیں کہ سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ ارباب اقتدار اور اپنوں کی کاوشوں سے پنجاب میں مرچکی صحافت کی میت کا آج اپنی آنکھوں دیکھا اور خود پر بیتا حال کیسے بیان کروں۔ اسے ذلت کی داستان کہوں یا لاقانونیت بہرحال کچھ بھی نام دیجیے نتیجہ صرف جہالت کی تسکین تھا جس کا مجھے اڑھائی گھنٹے سامنا رہا۔ شاید کچھ صحافتی دوست یہ گواہی دے ہی دیں کہ میں گزشتہ تین دہائیوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہوں اور اس دوران بہت سے قومی اور بین الاقوامی جرائد میں لکھنے کے علاوہ ملک کے بہت سے معتبر صحافتی اداروں میں اہم مقام پر کام کرچکا ہوں اور اب بھی ایک سیٹلائٹ نیوز چینل سے وابستگی ہے۔ اس طویل تمہید کا مقصد آپکو وہ داستان بے توقیری بیان کرنا ہے جس کا میں شکار رہا۔ آپ نے کچھ روز پہلے میرے فیس بک پیج پر ایل ڈی اے کے افسران کی کرپشن سے متعلق ایک اسٹوری پڑھی ہوگی، جہاں لاہور کے علاقہ شاد باغ میں پلازہ مالکان کی جانب سے ایل ڈی اے افسران سے لین دین کرکے بغیر نقشہ منظوری کے کروڑوں روپے کی قانونی فیسیں جمع کروائے بغیر غیر قانونی پلازے کی تعمیر کرائی جارہی ہے ۔اسٹوری کے بعد مجھے آج سورس نے بتایا کہ ایل ڈی اے افسران کو بتائے جانے کے باوجود وہاں کام جاری ہے ،جب میں نے وقت کی کمی کے باعث خود ہی موبائل سے پلازے میں کام جاری ہونے کی فوٹیج بنائی تاکہ خبر دے سکوں تو وہاں اندر موجود افراد نے مجھ پر گنیں تان لیں ۔مختصراً مزید ستم یہ کہ میں بدقسمتی سے ون فائیو پر کال کر بیٹھا اس کے بعد تین گھنٹے کی وہ ذلت تھی جو مجھے شاد باغ تھانے میں ایس ایچ او کی سیٹ پر تعینات اللہ رب العزت کی ابتر مخلوق (اللہ گواہ ہے مجھے اب تک اس کا نام نہیں پتہ) کے ہاتھوں برداشت کرنا تھی کہ الاماں الحفیظ۔ اس فی الوقتی فرعون نے تین منٹ کی گفتگو کے دوران میری طرف سے خود کو پریس کلب کا رکن بتانے پر بھڑکتے ہوئے مجھ پر آٹھ بار پیکا ایکٹ کی ایف آئی آر کاٹنے اور چھ بار گھٹیا کہنے اور میرے سروس کارڈ کو نقلی ثابت کرنے کے سوا کچھ زیادہ تو نہیں فرمایا اور ہاں جب میں نے انکے پوچھے جانے پر کہ "پتہ ای نا کہ پیکا کی اے” یہ بتانے کی جسارت کی کہ میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس کا ایک ایک بار جوائنٹ سیکریٹری اور نائب صدر رہ چکا ہوں جس پر موصوف نے یونین کو لپیٹ کر ۔۔۔۔۔ میں دے دیا جبکہ ہر آدھ گھنٹے بعد ایک سب انسپکٹر کے ذریعے "بس تیرے تے پرچہ ہون لگا اے” کی آواز اس ہزیمت کو تازہ رکھنے کے لئے علیحدہ احکامات جاری کئے تاکہ میں غلطی سے بھی خود کو قابل عزت نہ سمجھ بیٹھوں۔ مجھ سے فون لے لیے جانے اور ملزمان کے ساتھ بند کردیے جانے کے بعد یہ تو بھلا ہو ان تین چار غیر معروف صحافتی اداروں کے رپورٹرز کا جو وہاں کسی کام سے موجود تھے اور حالانکہ میں ان سے واقف نہیں تھا لیکن ان کی مہربانی کہ وہ مجھے جانتے تھے سو انہوں نے غالبًا ایس پی سٹی کے فون کے ذریعے میری حبس بجا سے بازیابی کرائی۔ اب کسی دوست نے بتایا ہے کہ سی سی پی او آفس جاکر درخواست گزارو۔ میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ یہ احساس ذلت کو کم کرے گا یا دوگنا؟؟ شام چھ بجے سے اب تک رب کعبہ کی قسم ہے کہ اینگزائٹی کا یہ عالم ہے کہ کئی بار سب کچھ ختم کردینے کا سوچ چکا ہوں۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: عدیل اکبر کی حسنین اخلاق اسلام آباد پولیس کے کے ساتھ بہت سے کی خود ایس پی کہ میں

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار