افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مغربی فکر کا مقابلہ کیسے کریں؟
سب سے پہلا کام ہم یہ کرنا چاہتے ہیں کہ مغربی فکر اور مغربی فلسفۂ حیات کا جو طلسم بندھا ہوا ہے‘ اس کو توڑ ڈالا جائے۔ ایک معقول اور مدلل علمی تنقید کے ذریعے یہ بات ثابت کی جائے کہ مغربی علوم و فنون میں جتنے حقائق اور واقعات ہیں‘ وہ دراصل تمام دنیا کا مشترک علمی سرمایہ ہیں اور اس کے ساتھ کسی تعصب کا کوئی سوال نہیں ہے۔ لیکن ان معلومات و حقائق کو جمع کرکے جو فلسفۂ حیات اہلِ مغرب نے بنایا ہے‘ وہ قطعی باطل ہے۔ ان کو مرتب کرکے جو طرزِ فکر اور کائنات کے متعلق جو تصور اور انسان کے بارے میں جو تصور انہوں نے قائم کیا ہے اور جس کے اوپر اپنی پوری تہذیب کی عمارت انہوں نے اٹھائی ہے‘ وہ ساری کی ساری از اَوّل تا آخر باطل ہے۔ جو معاشرتی علوم (Social Sciences) انہوں نے مرتب کیے ہیں‘ جو معاشرتی فلسفہ (Social Philosophy) انہوں نے گھڑا ہے‘ وہ مُوجبِ فتنہ و فساد ہے‘ وہ انسان کی فلاح کے لیے نہیں بلکہ انسان کی تباہی کے لیے ہے اور خود ان کی اپنی تباہی کے لیے ہے۔ یہ پہلا ضروری کام ہے‘ جس کے ذریعے سے ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ مسلمانوں پر مغربی فکر و فلسفے کا جو سحر ہے‘ وہ ختم ہوجائے گا اور جس کے بغیر مسلمانوں کو اس ذہنی مرعوبیت اور ذہنی شکست خوردگی کی حالت سے نہیں نکالا جاسکتا جس میں وہ مبتلا ہیں۔ جب تک مسلمان اس ذہنی شکست خوردگی میں مبتلا ہیں‘ اس وقت تک آپ توقع نہیں کرسکتے کہ وہ دنیا کے ’’مقلد‘‘ کی زندگی چھوڑ کر ’’مجتہد‘‘ کی زندگی اختیار کریں گے۔ اس وقت تک تو ان کا کام آنکھیں بند کرکے اہلِ مغرب کے پیچھے چلنا ہے۔ اس حالت کو آپ نہیں بدل سکتے جب تک کہ اس سحر کو نہ توڑ دیں اور اس حقیقت کو واضح نہ کردیں کہ علمی حقائق اور چیز ہیں اور علمی حقائق کو ترتیب دے کر ایک فلسفۂ زندگی اور نظامِ حیات مرتب کرنا بالکل دوسری چیز ہے۔ حقائق اپنی جگہ بالکل صحیح ہوسکتے ہیں‘ لیکن فی الحقیقت ان کو مرتب کرکے مغرب میں جو فلسفۂ حیات بنایا گیا ہے‘ وہ بالکل غلط ہے!
٭—٭—٭
اس کے آگے جو دوسرا کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے تمام علوم و فنون کو نئے اسلوب اور نئے طریقے پر مرتب کیا جائے تاکہ وہ ایک اسلامی تہذیب کی بنیاد بن سکیں۔ اسی طرح اسلام کے مطابق ہمیں ایک فلسفہ درکار ہے‘ جو انسان کے ذہن کی اس تلاش کو تسکین دے کہ حقیقت کیا ہے‘ مگر یہ تسکین اس عقیدے کے مطابق دے جو اسلام نے ہمیں دیا ہے۔ حقیقت کی تلاش اور اس کی تڑپ انسان کی فطرت میں ہے‘ وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مگر تلاشِ حقیقت کے مختلف راستوں میں سے صحیح راستہ ہمارے نزدیک وہ ہے جو انبیاء علیہم السلام کا تھا۔ اس راستے کے مطابق تلاشِ حقیقت‘ کائنات کی حقیقت‘ حیاتِ انسانی کی حقیقت‘ نیز اس کے مآل (انجام‘ نتائج) کو ایک فلسفے کی شکل میں مرتب کرنا تاکہ آدمی کو اس کے مطابق ڈھالا جائے۔ ظاہر ہے یہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ ہم ایک فلسفہ اسلام کے نقطۂ نظر کے مطابق مرتب کریں۔ اس کام کو کیے بغیر یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ آپ کی یونیورسٹیوں اور آپ کے کالجوں میں جو فلسفہ پڑھایا جاتا ہے یا نفسیات کے جو علوم پڑھائے جاتے ہیں یا جن دوسرے فلسفیانہ علوم کی تعلیم دی جاتی ہے‘ ان کو تبدیل کردیا جائے اور ان کی جگہ کوئی دوسرا فلسفہ پڑھایا جائے (تہذیبی کشمکش میں علم و تحقیق کا کردار)۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانے کی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ پولیس فورس کی بنیاد معیاری افرادی قوت اور انسانی وسائل پر ہوتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور خلوصِ دل سے خدمت پولیس کا مقصد ہے، پولیس کی وردی جوانوں کے لیے اعزاز بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام اور حکومت کی نظریں پولیس فورس پر مرکوز ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانے کی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے، رزاق آباد، سکرنڈ اور حیدرآباد کے مراکز کو پولیس ٹریننگ اسکول کا درجہ دیا جائے۔