56 سالہ نصیبو لعل کے ہاں بیٹے کی پیدائش؟ حقیقت جانیے
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
معروف پاکستانی لوک گلوکارہ نصیبو لعل کے ہاں بیٹے کی پیدائش کے حوالے سے سوشل میڈیا پر خبریں زیر گردش تھیں جس کی حقیقت سامنے آگئی۔
ان افواہوں کا سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جبکہ گلوکارہ کی ایک بچے کو گود میں لیے اسپتال سے ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ بچے کو اپنا بیٹا کہہ کر پکار رہی اور پیار کررہی تھیں۔
اس تصویر میں نصیبو لعل کے ساتھ اُن کے شوہر بھی موجود تھے اور دونوں کی خوشی دیدنی تھی جبکہ انہیں اسپتال کے زچہ بچہ وارڈ میں بھی دیکھا گیا۔
یہ تصویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے بغیر تصدیق کے دعویٰ کیا کہ 56 سالہ گلوکارہ کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔
ان افواہوں کے درمیان نصیبو لعل کی فیملی نے بچے کی پیدائش کی تصدیق کی اور بتایا کہ ’گلوکارہ دراصل دادی بنی ہیں اور اُن کے بیٹے مراد کے ہاں اولاد کی پیدائش ہوئی ہے‘۔
گلوکارہ نے یہ بھی کہا کہ میرے بیٹے کا بیٹا ، میرے بیٹے کی طرح ہی ہے اس لیے میں نے یہ کہا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی پیدائش بیٹے کی کے ہاں
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔