ماہیما چوہدری کی دوسری شادی کی افواہیں،اصل حقیقت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ماہیما چوہدری اور سینئر اداکار سنجے مشرا کی مبینہ شادی کی خبریں گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئیں، تاہم اب ان افواہوں کی حقیقت سامنے آ گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ماہیما چوہدری اور سنجے مشرا شادی کے لباس میں نظر آئے، جس پر مداحوں نے قیاس لگایا کہ دونوں نے خاموشی سے شادی کرلی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو ان کی آنے والی فلم ’درلبھ پرساد کی دوسری شادی‘ کا ایک پروموشنل شوٹ تھا۔
اس فلم کی ہدایتکاری سدھانت راج کر رہے ہیں، جبکہ دیگر کاسٹ میں دیوِتا جونیجا، پرت کمانی اور آشی توش رانا جیسے فنکار شامل ہیں۔
افواہوں کے بعد ماہیما کے مداحوں نے سوشل میڈیا پر مبارک بادوں کے پیغامات بھیجے، لیکن بعد میں یہ واضح ہوگیا کہ یہ صرف فلم کی تشہیر کا حصہ تھی، اور ماہیما کی ذاتی زندگی میں ایسی کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
یاد رہے کہ ماہیما چوہدری کی نجی زندگی بھی ہمیشہ خبروں میں رہی ہے۔ انہوں نے 2006 میں بھارتی آرکیٹیکٹ اور بزنس مین بوبی مکھرجی سے شادی کی تھی، اور 2007 میں ان کی بیٹی آریانا پیدا ہوئی۔ تاہم، ازدواجی اختلافات کے باعث دونوں نے 2013 میں علیحدگی اختیار کر لی۔
ایک انٹرویو میں ماہیما نے بتایا تھا کہ طلاق کے بعد بیٹی کی پرورش اور کیریئر کو ساتھ لے کر چلنا ان کے لیے نہایت مشکل مرحلہ تھا۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ علیحدگی سے قبل انہیں دو بار اسقاطِ حمل جیسے تکلیف دہ تجربات سے گزرنا پڑا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ماہیما چوہدری
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔