بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ماہیما چوہدری اور سینئر اداکار سنجے مشرا کی مبینہ شادی کی خبریں گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئیں، تاہم اب ان افواہوں کی حقیقت سامنے آ گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ماہیما چوہدری اور سنجے مشرا شادی کے لباس میں نظر آئے، جس پر مداحوں نے قیاس لگایا کہ دونوں نے خاموشی سے شادی کرلی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو ان کی آنے والی فلم ’درلبھ پرساد کی دوسری شادی‘ کا ایک پروموشنل شوٹ تھا۔
اس فلم کی ہدایتکاری سدھانت راج کر رہے ہیں، جبکہ دیگر کاسٹ میں دیوِتا جونیجا، پرت کمانی اور آشی توش رانا جیسے فنکار شامل ہیں۔
افواہوں کے بعد ماہیما کے مداحوں نے سوشل میڈیا پر مبارک بادوں کے پیغامات بھیجے، لیکن بعد میں یہ واضح ہوگیا کہ یہ صرف فلم کی تشہیر کا حصہ تھی، اور ماہیما کی ذاتی زندگی میں ایسی کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
یاد رہے کہ ماہیما چوہدری کی نجی زندگی بھی ہمیشہ خبروں میں رہی ہے۔ انہوں نے 2006 میں بھارتی آرکیٹیکٹ اور بزنس مین بوبی مکھرجی سے شادی کی تھی، اور 2007 میں ان کی بیٹی آریانا پیدا ہوئی۔ تاہم، ازدواجی اختلافات کے باعث دونوں نے 2013 میں علیحدگی اختیار کر لی۔
ایک انٹرویو میں ماہیما نے بتایا تھا کہ طلاق کے بعد بیٹی کی پرورش اور کیریئر کو ساتھ لے کر چلنا ان کے لیے نہایت مشکل مرحلہ تھا۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ علیحدگی سے قبل انہیں دو بار اسقاطِ حمل جیسے تکلیف دہ تجربات سے گزرنا پڑا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ماہیما چوہدری

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا