وزیراعظم آزاد کشمیر مکمل طورپر ناکام ہوچکے ہیں، صوبائی وزیرداخلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محراب پور(جسارت نیوز)آزاد کشمیر کا وزیراعظم ناکام ہوچکا ہے پی پی رکن قومی اسمبلی ذوالفقار علی بہن کے گھر پر ڈکیتی میں ملوث مجرموں کو جلد قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا، صوبائی وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے نوشہروفیروز کے وکلا سے ملاقات کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جلد ا?زاد کشمیر اسمبلی کے اراکین کے وٹوں سے نیا وزیر اعظم منتخب ہوجائے گا، ماضی کے مقابلے میں سندھ میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ختم ہو چکی ہیں ، سندھ حکومت جرائم ،منشیات کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کر رہی ہے،کراچی پولیس کی حراست میں نوجوان کی ہلاکت پر جوڈیشنل انکوائری مقرر کر دی گئی ہے،ضیاء الحسن لنجار نے مزید کہا کہ وکلا نے ہمیشہ جمہوریت، عدلیہ، انسانی حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور حکومت وکلا کے مسائل کے حل کیلئے پرعزم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔