وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پہلے ای چالان پر معافی کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ: فائل فوٹو
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پہلے ای چالان پر معافی کا اعلان کر دیا۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن کے ساتھ ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ دوبارہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر چالان ادا کرنا ہوگا، سندھ پولیس کا جدید ای ٹکٹنگ سسٹم مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔
آئی جی سندھ نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر رپورٹ پیش کی۔
غلام نبی میمن نے کہا کہ پہلا ای چالان ہونے پر 10 یوم میں رابطہ کرکے معافی کے ساتھ فیس معاف ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب کراچی میں ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف شروع کی گئی ای چالان کی مہم زور و شور سے جاری ہے۔
کراچی میں ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف شروع کی گئی ای چالان کی مہم زور و شوروں سے جاری ہے۔
ٹریفک پولیس کے حکام کے مطابق کراچی میں گزشتہ تین روز کے دوران ای چالان کی تعداد 12ہزار 942 تک پہنچ گئی ہے۔
ٹریفک پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ پہلے روز 6 گھنٹے میں 2 ہزار 622 ای چالان کیے گئے۔
ٹریفک پولیس کے حکام کے مطابق مہم کے دوسرے روز ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر 4 ہزار 301 جبکہ تیسرے روز 5 ہزار 979 ای چالان کیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ٹریفک پولیس چالان کی
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔