ویب ڈیسک : سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ میں نے پہلے ای چالان کی معافی کی ہدایت جاری کر دی ہے، دوبارہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرے گا اس کو چالان ادا کرنا ہوگا۔ 

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ای چالان کے حوالے سے آئی جی پولیس غلام نبی میمن نے تیار کردہ رپورٹ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو پیش کی۔ اس رپورٹ کے مطابق ای ٹکٹنگ سسٹم کے تحت 35 سرکاری گاڑیوں کا چالان کیا ہے، سیٹ بیلٹ، جمپنگ ریڈ لائیٹس، ٹینڈگلاسز اور موبائل کے استعمال پر گاڑیوں کا ای چالان ہوا۔

یو ٹیوبرز کے لیے خوشخبری ؛ غیر معیاری ویڈیوز کو فوری طور پر بہتر بنانے کا نیا فیچر متعارف

وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے آئی جی پولیس غلام نبی میمن سے پہلے ای چالان کی تفصیلات طلب کیں جس میں بتایا گیا کہ ای ٹکٹنگ سسٹم کے تحت پولیس کی سرکاری گاڑی SPE-950 کو سیٹ بیلٹ خلاف ورزی پر چالان کیا گیا۔ ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا کہ لیاری ایکسپریس وے پر 28 اکتوبر کو دوپہر 01:36 بجے پولیس گاڑی کا پہلا چالان کیا گیا، ڈرائیور نے گارڈن لیاری ایکسپریس وے پر 2 مقامات پر سیٹ بیلٹ نہیں باندھی تھی۔

ریلوےکوارٹرزکی غیرقانونی الاٹمنٹ پر 10 کروڑ روپے کی رشوت;4ملازم گرفتار مزید 19 کے ملوث کا انکشاف

وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ پولیس کا جدید ای ٹکٹنگ سسٹم مؤثر ثابت ہو رہا ہے، تمام شہریوں کے مساوی حقوق ہیں قانون پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے شہریوں کو ہدایت کی کہ اپنی حفاظت کی خاطر ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں، مہذب شہری ہمیشہ ٹریفک قوانین پر عمل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے چالان کی معافی کی ہدایت جاری کر دی ہے، دوبارہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرے گا اس کو چالان ادا کرنا ہوگا، پولیس بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

وزیراعظم کی سیلز ٹیکس فراڈ کرنیوالے اداروں، کمپنیوں اور افراد کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت

آئی جی پولیس غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ ای چالان ہونے پر 10 یوم میں رابطہ کر کے معافی کے ساتھ فیس معاف ہو سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ٹریفک قوانین کی مراد علی شاہ نے وزیر اعلی خلاف ورزی چالان کی کی ہدایت نے کہا

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم