اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر اور سینیئر دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) راشد ولی نے کہا ہے کہ طالبان اب تشدد کو ایک ’بزنس ماڈل‘ کے طور پر استعمال کررہے ہیں تاکہ دنیا سے مالی امداد حاصل کریں۔

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا کے افغانستان سے انخلا کے بعد طالبان کو ہر ہفتے 70 ملین ڈالرز کی امداد دی گئی، مگر یہ رقوم عوام کی فلاح کے بجائے دہشتگرد سرگرمیوں میں صرف ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان پاکستان کے خلاف غیر ریاستی عناصر کو بطور دباؤ استعمال کر رہے ہیں۔ بارڈر کراسنگ اور اسمگلنگ کو وہ تجارت کا نام دیتے ہیں تاکہ اپنی معیشت کو سہارا دے سکیں۔ پاکستان کی افواج نے 1500 سے زائد کراسنگ پوائنٹس کو محفوظ کیا ہوا ہے، مگر افغان سائیڈ پر کوئی کنٹرول نہیں۔

پاکستان اور افغانستان کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے حوالے سے بریگیڈیئر (ر) راشد ولی کہتے ہیں کہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا اضطراب بجا ہے کیونکہ جب روز اپنے جوانوں کے جنازے اٹھانے پڑیں تو صبر اور برداشت کی حد تمام ہوجاتی ہے۔

ان کے مطابق افغانستان کی موجودہ حکومت ایک سخت گیر اور ناتجربہ کار سوچ رکھتی ہے، جس کے پاس ریاستی حکمت عملی یا سفارتکاری کی سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ پاکستان نے ان کے ساتھ مثبت سفارتی روابط کی ہر ممکن کوشش کی، مگر انہوں نے دہشتگرد گروہوں جیسے ٹی ٹی پی، داعش اور دیگر کے خلاف کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔

راشد ولی نے کہا کہ افغانستان کی معیشت کمزور ہے، وہاں کی 60 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور صحت کے شعبے میں ایمرجنسی کی کیفیت ہے۔ پاکستان جب دباؤ ڈالنے کے لیے بارڈر بند کرتا ہے تو افغان عوام سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں، مگر طالبان حکومت اپنی روش نہیں بدلتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن طالبان کے اندرونی اختلافات، خاص طور پر کابل اور قندھاری دھڑوں کی تقسیم، کسی اتفاق رائے کو ممکن نہیں بننے دے رہی۔ طالبان ٹی ٹی پی پر قابو پانے کو اپنی نظریاتی موت سمجھتے ہیں۔

بریگیڈیئر (ر) راشد ولی نے ممکنہ سیکیورٹی منظرناموں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر طالبان کو شکست ہوئی تو کابل میں ایک نئی مخلوط حکومت قائم ہوسکتی ہے جس میں تمام نسلی گروہوں کی نمائندگی ہو لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو پاکستان کو اپنی سلامتی کے لیے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کرنے پڑیں گے کیونکہ طالبان کے پاس روایتی فوجی ڈھانچہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کی طاقت موجود ہے جس کے ذریعے اہداف کو درست نشانہ بنایا جاسکتا ہے، مگر کسی بھی کارروائی میں شہری آبادی کے نقصان سے بچنا ہوگا۔

اندرونی صورتحال پر بات کرتے ہوئے راشد ولی نے کہا کہ پاکستان کے اندر انتہا پسندی ایک سنگین خطرہ ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ایک مذہبی شدت پسند گروہ پر پابندی خوش آئند قدم ہے۔ ان کے مطابق ایسے گروہوں کو جڑ سے اکھاڑنا ضروری ہے جو مذہب کے نام پر تشدد کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے، ورنہ یہ شدت پسندی کا عفریت دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشی مسائل، بے روزگاری، ناخواندگی اور محرومی نے ایک زہریلا ماحول پیدا کردیا ہے، جس میں انتہا پسندی کی آگ بھڑک سکتی ہے۔ اگر مذہب کے نام پر لوگوں کو بھڑکایا گیا تو حالات ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ مساجد اور مدارس کے نظام کو ریگولیٹ کرنا ضروری ہے، جیسے سعودی عرب، ترکیہ اور ملائیشیا میں ہوتا ہے۔

نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی پر بات کرتے ہوئے راشد ولی نے کہا کہ پاکستان میں منصوبے تو بہت بن جاتے ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ گورننس کا اصل مطلب ہی عملدرآمد ہے۔ اگر قانون پر عمل نہ ہو تو کوئی بھی شہر یا ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے رول آف لا اور قانون کے نفاذ کے نظام میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ موجودہ کشیدگی کے پیش نظر پاکستان کو ہر وقت چوکس رہنا ہوگا۔ بھارتی حکومت داخلی سیاسی مقاصد کے لیے سرحدی شرارتیں کرسکتی ہے، مگر پاکستان کو ہوشیاری سے سفارتی محاذ پر سرگرم رہنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ راشد ولی نے کہا پاکستان کے کہ پاکستان کرتے ہوئے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری