لاہور: تھانہ بھاٹی گیٹ میں آسٹریلوی شہری پر پولیس اہلکاروں کا مبینہ تشدد
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
لاہور:
تھانہ بھاٹی گیٹ میں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں نے آسٹریلوی شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا اور متاثرہ شہری خواجہ ذیشان نے تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف درخواست جمع کروا دی۔
متاثرہ شہری خواجہ ذیشان نے درخواست میں بتایا کہ 24 اکتوبر کو ٹبی سٹی کے علاقے میں تین اہلکاروں نے روکا اور تشدد شروع کر دیا جبکہ پولیس اہلکاروں نے مؤقف اپنایا کہ انہوں نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن آپ نہیں رُکے۔
درخواست میں کہا کہ پولیس اہلکاروں کی مبینہ مارپیٹ سے چہرہ لہولہان، ہاتھوں اور ٹانگوں پر زخموں کے نشانات آئے ہیں، پولیس اہلکار تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے تھانہ بھاٹی گیٹ لے گئے۔
متاثرہ شہری نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے موبائل فون چھین لیا اور گاڑی کی چابیاں بھی لے لیں، بھانجی اور اس کے شوہر نے تھانے پہنچ کر جان خلاصی کرائی اور گاڑی میں موجود تین ہزار آسٹریلوی ڈالر بھی اہلکاروں نے چرا لیے ہیں۔
خواجہ ذیشان نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ آسٹریلیا کا شہری ہوں اور پولیس اہلکاروں نے زیادتی کی ہے لہٰذا انصاف دیا جائے۔
ایس پی سٹی بلال احمد نے کہا کہ واقعہ کب ہوا، کیسے ہوا چیک کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پولیس اہلکاروں نے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔