شہری کو برہنہ کرکے تشدد کرنے والوں میں کے پی پولیس کا اہلکار بھی ملوث نکلا
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم یاسر خان کو ویڈیوز میں شہری پر پائپوں اور ڈنڈوں سے تشدد کرتے دیکھا جاسکتا ہے، ملزم یاسر کا سروس کارڈ بھی سامنے آ گیا جس کے مطابق ملزم یاسر نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کے پی کا اہلکار ہے۔ اسلام ٹائمز۔ راولپنڈی میں شہری کو برہنہ کرکے زنجیروں میں جکڑنے اور تشدد کرنے کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعہ شامل کرتے ہوئے تفتیش انسپکٹر لیول کے آفیسر کو سونپ دی جبکہ گرفتار ملزمان میں سے ایک ملزم پولیس ملازم بھی ہے۔ تھانہ گنجمڈی میں درج شہری کو برہنہ کر کے تشدد کرنے کے مقدمے کی تفتیش انسپکٹر انوسٹی گیشنز سٹی سرکل عامر خالد کو سونپ دی گئی۔ مقدمے میں دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل ہونے کے بعد تفتیش انسپکٹر کا اختیار ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم یاسر خان کو ویڈیوز میں شہری پر پائپوں اور ڈنڈوں سے تشدد کرتے دیکھا جاسکتا ہے، ملزم یاسر کا سروس کارڈ بھی سامنے آ گیا جس کے مطابق ملزم یاسر نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کے پی کا اہلکار ہے۔
شناختی کارڈ پر درج ریکارڈ کے مطابق ملزم ڈھوک کشمیریاں راولپنڈی کا رہائشی ہے۔ مقدمے میں دہشت گردی ایکٹ سمیت حبس بے جا میں رکھنے اور برہنہ کرکے ویڈیو بنانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ گرفتار 6 ملزمان کے نام بھی سامنے آگئے جن میں یاسر خان، ملک جنید ظہیر، فیصل مسیح، ثمر عباس، روحیل اور رب نواز عرف ننھا بھی شامل ہیں جبکہ ذرائع کا کہنا ہے گرفتار ملزم یاسر خان پولیس ملازم اور نیشنل پولیس فاؤنڈیشن میں تعینات ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مطابق ملزم یاسر یاسر خان
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن