کراچی، پی ٹی آئی رہنماؤں پر درج 9 مئی کے مقدمات میں گواہ پولیس اہلکار کو گرفتار کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف سانحہ 9 مئی اور اشتعال انگیز تقریر کے 5 مقدمات میں استغاثہ کے گواہ پولیس اہلکار سجاد کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف سانحہ 9 مئی اور اشتعال انگیز تقریر کے پانچ مقدمات کی سماعت ہوئی۔
تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ، راجہ اظہر، خرم شیر زمان و دیگر پیش ہوئے۔ عدالت نے شاہ فیصل تھانے میں درج 9 مئی کے مقدمے میں استغاثہ کے گواہ کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا۔
عدالت نے استغاثہ کے گواہ پولیس اہلکار سجاد کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
عدالت نے مقدمات کی مزید سماعت 24 دسمبر تک ملتوی کردی ہے۔
پولیس کے مطابق تحریک انصاف کے رہنماؤں و کارکنان کیخلاف سانحہ نو مئی کے 3 مقدمات فیروز آباد، ٹیپو سلطان اور شاہ فیصل کالونی تھانے میں درج ہیں، ہنگامہ آرائی اور پولیس موبائل نذر آتش کرنے کا مقدمہ مبینہ ٹاؤن تھانے میں درج ہے، لانڈھی تھانے میں اشتعال انگیز تقریر کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تھانے میں عدالت نے کرنے کا
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔