چینی شہری کو مبینہ طور پر اگست 2019ء میں دفعہ 370 کی منسوخی کے حوالے سے آن لائن سرچ کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ایک چینی سیاح کی گرفتاری کے بعد بھارتی پولیس نے غیر ملکی سیاحوں کی جانچ پڑتال اور انہیں سہولیات فراہم کرنے والے مقامی لوگوں پر پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارتی پولیس نے ویزہ شرائط کی خلاف ورزی پر گرفتار کئے گئے چینی سیاح سے منگل کو مسلسل دوسرے دن بھی تفتیش جاری رکھی اور اس کے موبائل فون کو فرانزک تجزیہ کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔چینی شہری کو مبینہ طور پر اگست 2019ء میں دفعہ 370 کی منسوخی کے حوالے سے آن لائن سرچ کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس ٹیموں نے ہوٹلوں، گیسٹ ہائوسز اور ہائوس بوٹس میں مہمانوں کے اندراج اور امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ سے متعلق فارم-سی کے ریکارڈ کی جانچ شروع کر دی ہے۔ قابض انتظامیہ کے اس اقدام سے مقامی لوگوں میں شدید خوف پیدا ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قابض انتظامیہ کے اس جابرانہ اقدام کا مقصد غیر ملکی سیاحوں کو ڈرانا اور مقبوضہ علاقے کا رخ نہ کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ ٹورازم آپریٹرز کا کہنا ہے کہ قابض انتظامیہ کی مہم کامقصد غیر ملکی سیاحوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور انہیں مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور وہاں موجود گھٹن کے ماحول کا مشاہدہ کرنے سے روکنا ہے۔

انہوں نے خبردار کہا کہ مودی حکومت سیاحت پر مبنی مقبوضہ کشمیر کی مفلوک الحال معیشت کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت چین، ایران اور نئی دلی سے کشیدہ تعلقات رکھنے والے دیگر ممالک کے سیاحوں کو ممکنہ خطرے کے طور پر پیش کر کے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد مقبوضہ علاقے کی حقیقی زمینی صورتحال کو بیرونی دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنا بھی ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی پولیس نے غیر ملکی سیاحوں کے قیام کی اطلاع نہ دینے پر سرینگر میں متعدد ہوٹلوں، ہائوس بوٹس اور گیسٹ ہائوسز کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غیر ملکی سیاحوں گیا ہے

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان