مقبوضہ کشمیر، چینی شہری کی گرفتاری کے بعد غیر ملکی سیاحوں کی جانچ پڑتال مزید سخت
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
چینی شہری کو مبینہ طور پر اگست 2019ء میں دفعہ 370 کی منسوخی کے حوالے سے آن لائن سرچ کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ایک چینی سیاح کی گرفتاری کے بعد بھارتی پولیس نے غیر ملکی سیاحوں کی جانچ پڑتال اور انہیں سہولیات فراہم کرنے والے مقامی لوگوں پر پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارتی پولیس نے ویزہ شرائط کی خلاف ورزی پر گرفتار کئے گئے چینی سیاح سے منگل کو مسلسل دوسرے دن بھی تفتیش جاری رکھی اور اس کے موبائل فون کو فرانزک تجزیہ کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔چینی شہری کو مبینہ طور پر اگست 2019ء میں دفعہ 370 کی منسوخی کے حوالے سے آن لائن سرچ کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس ٹیموں نے ہوٹلوں، گیسٹ ہائوسز اور ہائوس بوٹس میں مہمانوں کے اندراج اور امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ سے متعلق فارم-سی کے ریکارڈ کی جانچ شروع کر دی ہے۔ قابض انتظامیہ کے اس اقدام سے مقامی لوگوں میں شدید خوف پیدا ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قابض انتظامیہ کے اس جابرانہ اقدام کا مقصد غیر ملکی سیاحوں کو ڈرانا اور مقبوضہ علاقے کا رخ نہ کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ ٹورازم آپریٹرز کا کہنا ہے کہ قابض انتظامیہ کی مہم کامقصد غیر ملکی سیاحوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور انہیں مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور وہاں موجود گھٹن کے ماحول کا مشاہدہ کرنے سے روکنا ہے۔
انہوں نے خبردار کہا کہ مودی حکومت سیاحت پر مبنی مقبوضہ کشمیر کی مفلوک الحال معیشت کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت چین، ایران اور نئی دلی سے کشیدہ تعلقات رکھنے والے دیگر ممالک کے سیاحوں کو ممکنہ خطرے کے طور پر پیش کر کے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد مقبوضہ علاقے کی حقیقی زمینی صورتحال کو بیرونی دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنا بھی ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی پولیس نے غیر ملکی سیاحوں کے قیام کی اطلاع نہ دینے پر سرینگر میں متعدد ہوٹلوں، ہائوس بوٹس اور گیسٹ ہائوسز کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غیر ملکی سیاحوں گیا ہے
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔