جنت نظیر وادی آزاد جموں و کشمیر میں پی ایس ایل کا میدان سجنے کو تیار
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی تشدد کے برعکس آزاد کشمیر ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن ہے۔
پاکستان کی شہ رگ آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز منعقد کرانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
سفاک و بے رحم مودی کی مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کے جواب میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بڑا اعلان کردیا۔
پی سی بی نے آزاد جموں و کشمیر کے مظفر آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں پی ایس ایل میچز کے انعقاد کا فیصلہ کرلیا۔
پی ایس ایل کے تاریخی لندن روڈ شو میں پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا کہ ہم مظفرآباد کرکٹ اسٹیڈیم کو بھی بہترین انداز میں تیار کرنے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی کھلاڑیوں کے لیے مظفر آباد میں اعلیٰ معیار کا فائیو اسٹار ہوٹل بھی موجود ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پی ایس ایل کے میچز کے ساتھ ساتھ دیگر بین الاقوامی میچز بھی آزاد جموں و کشمیر میں منعقد کرائے جائیں گے۔
پاکستان کے خوش آئند اقدام نےثابت کردیا کہ امن، کھیل اور ترقی کشمیر کی اصل شناخت ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظلم و ستم کے برعکس پاکستان جنت نظیر وادی میں کھیل کے ذریعے امن کی تاریخ لکھ رہا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں خوشگوار کھیلوں کی فضا واضح پیغام ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جو ظلم و بربریت کے خلاف ہر لمحہ اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘