نیب آفس حملہ کیس،مریم نواز،رانا ثناودیگرلیگی رہنما بری
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور : لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے نیب آفس حملہ کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، رانا ثنااللہ اور دیگر لیگی رہنمائوں کو بری کر دیا۔
عدالت نے پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی اخراجِ مقدمہ رپورٹ منظور کر لی۔ اے ٹی سی نے پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ ملزمان کے خلاف الزامات کے ثبوت نہیں ملے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق مریم نواز کی نیب آفس پیشی کے موقع پر پتھرائو کے الزامات ثابت نہیں ہوئے، مقدمہ کا مدعی ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب چودھری اصغر عدالت میں پیش ہوا۔
عدالت کے استفسار پر مدعی نے کہا کہ اسے اخراج رپورٹ پر کوئی اعتراض نہیں، سماعت کے دوران ایس پی معظم علی، ڈی ایس پی ذوالفقار علی بٹ اور ڈی ایس پی محمد خان بطور گواہ پیش ہوئے، گواہوں نے اپنے بیانات میں کہا کہ ملزمان کے خلاف ٹرائل کے لیے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔
پولیس کے مطابق مقدمہ 2020 میں تھانہ چوہنگ میں ڈپٹی ڈائریکٹر نیب محمد اصغر کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، رانا ثنا اللہ، کیپٹن (ر) صفدر، بلال یاسین اور دیگر لیگی رہنمائوں کو نامزد کیا گیا تھا۔
مقدمے کے مطابق مریم نواز کی رائیونڈ اراضی کیس میں نیب پیشی کے موقع پر کارکنوں نے پولیس پر پتھرائوکیا تھا، عدالت نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد پولیس کی اخراج رپورٹ منظور کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مریم نواز
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔