عمران خان کی ہمشیرہ روپوش ہیں تو اڈیالہ جیل کے باہر ان کی میڈیا ٹاک کیسے نشر ہوتی ہیں، جج کا شوکاز نوٹس جاری
ضمانتی مچلکے ضبط کرنے اور دو نئے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم ،دونوں پولیس افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا

انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے ایک بار پھر عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان کے ضمانتی مچلکے ضبط کرنے کا حکم دیدیا۔علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے کی۔علیمہ خان ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود عدالت پیش نہیں ہوئیں جبکہ مقدمے میں نامزد دیگر 10 ملزمان عدالت پیش ہوئے۔عدالت نے علیمہ خان کی غیر حاضری پر ان کے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ان کے ضامن عمر شریف کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔انسداد دہشت گردی عدالت نے ضامن کو 24 اکتوبر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے علیمہ خان کو 10، 10 لاکھ کے دو نئے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے احکامات جاری کیے۔عدالت نے ایس پی راول محمد سعد اور ڈی ایس پی نعیم کو بھی توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے دونوں پولیس افسران کی جانب سے علیمہ خان کے روپوش ہونے کی رپورٹ کو بوگس قرار دے دیا اور دونوں پولیس افسران کو 24 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کا کہنا تھا علیمہ خان روپوش ہیں تو اڈیالہ جیل کے باہر ان کی میڈیا ٹاک کیسے نشر ہوتی ہیں۔عدالت نے مقدمے میں شامل چار گاڑیوں کے 85 لاکھ روپے کے شیورٹی بانڈز بھی ضبط کر لیے۔ گاڑیوں کے مالکان نے اے ٹی سی راولپنڈی سے سپرداری حاصل کر رکھی تھی۔عدالت نے آئی جی کے پی اور آئی جی بلوچستان کو گاڑیاں ضبط کرکے عدالت پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔فاضل جج نے مقدمے کی مزید سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: انسداد دہشت گردی عدالت ضمانتی مچلکے علیمہ خان کرتے ہوئے عدالت نے کا حکم خان کی

پڑھیں:

سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم

کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔

متعلقہ مضامین

  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع