پی سی بی کا بڑا فیصلہ: ملتان سلطانز کو معاہدہ منسوخی کا نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز ملتان سلطانز ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹیم کو معاہدے کی منسوخی (نوٹس آف ٹرمینیشن) کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر معاملات طے نہ ہوئے تو پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن میں ٹیم نئے مالکان کے ساتھ شریک ہوگی۔
واضح رہے کہ ملتان سلطانز اس وقت لیگ کی سب سے مہنگی فرنچائز ہے جو تقریباً سوا ارب روپے سالانہ فیس ادا کرتی ہے، تاہم ٹیم کے مالکان گزشتہ کچھ عرصے سے پی ایس ایل کے انتظامی ڈھانچے اور بورڈ کے ایک اعلیٰ افسر پر کھل کر تنقید کر رہے تھے۔
فرنچائز اونر علی ترین نے مختلف پوڈکاسٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لیگ کے ریونیو ماڈل اور گورننس پر سوالات اٹھائے، جس پر پی سی بی طویل عرصے تک خاموش رہا، مگر اب اس نے باقاعدہ کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے فرنچائز معاہدوں کے 10 سال مکمل ہونے کے بعد ایک غیر ملکی کمپنی کو ٹیموں کی ویلیوایشن (Valuation) کا کام سونپا تھا، جو اب آخری مرحلے میں ہے۔اس عمل کے دوران بورڈ نے تمام فرنچائزز کی معاہداتی پاسداری (Contract Compliance) کا جائزہ لیا ہے اور اس بنیاد پر مستقبل کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر ملتان سلطانز کا معاہدہ حتمی طور پر منسوخ ہو گیا تو موجودہ مالکان نئی ٹیموں کی بولی (Bidding) میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ علاوہ ازیں پی سی بی لیگ میں دو نئی ٹیموں کے اضافے پر بھی غور کر رہا ہے اور ایسے میں کسی ایک فرنچائز کے لیے فیس میں کمی باقی ٹیموں کے ساتھ ناانصافی اور مارکیٹ ویلیو کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ ملتان سلطانز کو پہلی بار 2017 میں شون پراپرٹیز نے 8 سالہ معاہدے کے تحت خریدا تھا، مگر اگلے ہی سال ادائیگی میں ناکامی کے باعث پی سی بی نے معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔ بعد ازاں دسمبر 2018 میں علی ترین اور عالمگیر خان ترین نے ٹیم کے مالکانہ حقوق حاصل کیے۔
2021 میں عالمگیر ترین کے انتقال کے بعد علی ترین نے دوبارہ ٹیم کی قیادت سنبھالی۔
اہم بات یہ ہے کہ پی ایس ایل کا 11واں ایڈیشن 2026 میں متوقع ہے، جو ورلڈ کپ کے باعث اپنے معمول کے شیڈول پر نہیں ہو سکے گا۔ امکان ہے کہ لیگ اپریل یا مئی 2026 میں کھیلی جائے، جس سے ایک بار پھر آئی پی ایل سے شیڈول کا تصادم ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملتان سلطانز پی ایس ایل پی سی بی
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم