بھارت میں انڈیگو ایئرلائن کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے، جس کے باعث سینکڑوں پروازوں کی منسوخی نے ملک بھر میں فضائی سفر کو شدید متاثر کیا ہے۔

ہفتے کے روز حکومت نے ایئر ٹکٹوں کے کرایوں پر پابندی عائد کر دی، جب کہ بنگلورو اور ممبئی کے ایئرپورٹس کے باہر بڑی تعداد میں مسافر جمع رہے جو اپنی منسوخ شدہ پروازوں کے سبب پریشانی کا شکار تھے۔

انڈیگو کی جانب سے صرف ہفتے کو ہی 385 پروازیں منسوخ کی گئیں، جبکہ مجموعی طور پر 5 روز سے جاری افراتفری نے ایئر ٹریول کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے۔

Govt finally caps fares after airlines treated cancelled flights like a flash sale on misery.


Reactive much?
All citizens ask for are — reliable schedules, honest comms, time-bound refunds & no “5x surge pricing” for oxygen aka tickets. #AviationChaos #IndiGo pic.twitter.com/o6bKko4S5u

— Jameel Aahmed Milansaar (@wwwjameel) December 6, 2025

ایئرلائن نے اس ہفتے ہزاروں پروازیں منسوخ کی ہیں۔ بحران کی بنیادی وجہ پائلٹس کی شدید کمی ہے، جو کمپنی کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث پیدا ہوئی۔

یکم نومبر سے نافذ ہونے والے نئے قواعد کے تحت پائلٹس کی ڈیوٹی اوقات، رات کی پروازوں کی حد اور ہفتہ وار آرام کے اوقات میں تبدیلیاں کی گئی تھیں۔

مزید پڑھیں: افغان ایئرلائن کی غلط لینڈنگ، دہلی ایئرپورٹ بڑی تباہی سے بچ گیا

لیکن انڈیگو ان تبدیلیوں کے مطابق اپنی روٹس اور شیڈول کو بروقت منظم کرنے میں ناکام رہی۔ اس کمی نے چند ہی دنوں میں پورے فضائی نظام کو متاثر کر دیا۔

حکومت نے جمعے کے روز انڈیگو کے لیے خصوصی ریلیف کا اعلان کیا، اس میں نئے قواعد پر وقتی نرمی دینے کے ساتھ ساتھ مسافروں کی سہولت کے لیے اضافی ٹرینیں چلانے کا فیصلہ بھی شامل تھا، تاکہ مختلف شہروں میں پھنسے مسافروں کا دباؤ کچھ کم کیا جا سکے۔

تاہم، بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دہلی ایئرپورٹ کے مطابق اگرچہ کچھ پروازیں بحال ہو رہی ہیں، لیکن دیگر بڑے شہروں میں اب بھی بڑی تعداد میں منسوخیاں جاری ہیں۔

اس غیر معمولی صورتِ حال کا ایک بڑا اثر دیگر ایئرلائنز کے کرایوں پر بھی پڑا، انڈیگو کی پروازوں کی منسوخی کے بعد دیگر کمپنیاں مقبول روٹس پر زائد کرایے وصول کرنے لگیں، جس پر حکومت کو مداخلت کرنا پڑی اور فضائی کرایوں پر حد مقرر کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔

مزید پڑھیں: دبئی ایئر شو : نااہل بھارتی فضائیہ نے دنیا کے سب سے بڑے فضائی ایونٹ کو بدنما داغ دے دیا

وزارتِ شہری ہوابازی کے مطابق وہ مسلسل ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے کرایوں کی نگرانی کرے گی، تاکہ کسی قسم کی بے قاعدگی نہ ہونے پائے۔

یہ بحران انڈیگو کی 20 سالہ تاریخ کا سب سے بڑا جھٹکا ثابت ہو رہا ہے۔ تقریباً 60 فیصد سے زائد مارکیٹ شیئر رکھنے والی یہ ایئرلائن کم کرایوں اور وقت کی پابندی کے باعث بھارت میں سب سے مقبول تھی۔

جمعے کے روز کمپنی نے 1,000 سے زیادہ پروازیں منسوخ کیں، جبکہ حکومت کی جانب سے وقتی رعایت ملنے کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ 10 سے 15 دسمبر کے دوران معمول کے فلائٹ آپریشن بحال کیے جا سکیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈیگو ایئرلائن بھارت پرواز ٹرینیں دہلی ایئرپورٹ روٹس ریئل ٹائم ڈیٹا کرایے وزارتِ شہری ہوابازی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انڈیگو ایئرلائن بھارت پرواز دہلی ایئرپورٹ روٹس ریئل ٹائم ڈیٹا کرایے وزارت شہری ہوابازی پروازوں کی انڈیگو کی

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج